ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 282
By Maulana Wahiduddin Khan
کام کا کہاں باقی رہی۔ میں نے کہا کہ ایک ہے امر واقع، اور دوسری چیز ہے عملی صورت حال۔ امر واقع تو یہی ہے کہ یہاں سارا اختیار صرف خدا کو حاصل ہے۔ مگر اسی کے ساتھ وقتی صورت حال یہ ہے کہ محدود مدت کے لئے انسان کو ذاتی اختیار بھی دے دیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ الہیاتی مسئلہ اور تخلیقی منصوبے کو الگ الگ کرکے دیکھیں تو یہ سوال بآسانی حل ہو جاتا ہے۔ بہ اعتبار حقیقت یہ صحیح ہے کہ خدا تادر مطلق ہے مگر خود خدا ہی نے اپنے تخلیقی منصوبے کے تحت انسان کو آزادی دے دی ہے۔ یہ آزادی محدود مدت کے لئے برائے امتحان ہے۔ مزید یہ کہ اس وقتی مدت کے دوران بھی خدا نے اپنی قدرت کاملہ کو معطل نہیں کیا ہے وہ اپنے منصوبے کی تکمیل کے لئے تاریخ میں مداخلت بھی کرتا رہتا ہے۔ مثلاً جبر کا نظام خدا کے تخلیقی منصوبے کی نفی ہے۔ چنانچہ ساتویں صدی میں اس نے رومی اور ساسانی ایمپائر کو توڑ دیا۔ اسی طرح بیسویں صدی کے آخر میں سوویت ایمپائر کو توڑ دیا گیا۔ جیرود تر کی بحث جو صدہا سال سے جاری ہے۔ اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ باحثین نے امر واقع اور صورت واقعہ کے فرق کو ملحوظ نہیں رکھا۔ ۳ اگست ۱۹۹۲ اجتماعی معاملات میں کوئی رویہ اختیار کرنے کے دو طریقے ہیں۔ ایک ہے خالص اصولی بنیاد پر کوئی رویہ اختیار کرنا۔ دوسرا ہے عوامی رجحان کو دیکھ کر اس کی رعایت سے کوئی رویہ اختیار کرنا۔ اس دوسرے رویہ کو آجکل پاپولسٹ اپروچ populist approach کہا جاتا ہے۔ میرا احساس ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلم رہنماؤں نے جو تحریکیں اٹھائیں وہ زیان تر پاپولسٹ اپروچ کا نتیجہ تھیں۔ بظاہر کوئی بھی تحریک خالص اصولی بنیادوں پر اٹھائی جانے والی تحریک نظر نہیں آتی۔ آجکل میں روزانہ چار اخبار پڑھتا ہوں۔ ٹائمس آف انڈیا، ہندوستان ٹائمس، پائونییر، قومی آواز۔ ٹائمس آف انڈیا کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر روز اپنے ایڈیٹوریل کے اوپر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader