ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 283
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک قول نقل کرتا ہے۔ آج کے اخبار میں جو ناتھن سویفت (Jonathan Swift) کا یہ قول تھا کہ ہمارے یہاں ایسے مذاہب بہت ہیں جو نفرت کو ناسکھاتے ہیں۔ مگر ایسے مذہب زیادہ نہیں جو ہم کو آپس میں محبت کرنے والا بنائیں: اس مقولہ میں اہل مذہب کی بات کو مذہب کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے۔ مختلف مذاہب میں اس اعتبار سے تو ضرور فرق ہے کہ کسی میں تحریف ہوئی ہے اور کسی میں تحریف نہیں ہوئی۔ مگر یہ تحریف زیادہ تر مخصوص اعتقادی امور میں ہوئی ہے۔ جہاں تک انسانی محبت کا تعلق ہے، وہ ہر مذہب میں آج بھی موجود ہے۔ کوئی بھی مذہب ، خواہ وہ محرف ہو یا غیر محرف، نفرت کی تعلیم نہیں دیتا۔ مگر مذہب کا نام لینے والے اپنی پستی کی بنا پر ایسے افعال کرتے ہیں جو لوگوں کے درمیان نفرت کا باعث بن جائیں۔ یہ لوگ چوں کہ اپنا عمل مذہب کے نام پر کرتے ہیں اس لئے ان کی وجہ سے خود مذہب بد نام ہو رہا ہے۔ ۵ اگست ۱۹۹۲ مولانا عبداللہ طارق صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ عرب علماء اکثر کہتے ہیں کہ الاسلام دین و دولة ۔ یہ جملہ بالکل غلط ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ رسول اللہ نے یا کسی صحابی نے ایسا نہیں کہا۔ وہ ما انا علیہ و اصحابی کے خلاف ہے۔ دین اور حکومت میں عطف و معطوف کا رشتہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل اور شاخ کا رشتہ ہے۔ مثلاً اگر کہا جائے کہ محبت نام ہے قلبی تعلق اور چائے پلانے کا، تو یہ جملہ غلط ہو گا۔ کیوں کہ اس میں قلبی تعلق اور چائے پلانے کو یکساں طور پر عطف اور معطوف کی حیثیت دے دی گئی ہے۔ حالاں کہ محبت میں قلبی تعلق اصل ہے، اور چائے پلانا اس اصل کی محض ایک جز کی شاخ۔ اسی طرح اسلام میں دین اصل ہے۔ اور حکومت محض اس کا ایک جز ہے۔ جس طرح اس کے اور بہت سے اجزاء ہیں۔ درخت کی اصل اس کا بیج ہوتا ہے اور تنه اور ڈالی اور پتی اور پھول اور پھل، سب اس کے اضافی اجزاء ہیں۔ اسی طرح اسلام میں دین کی حیثیت بیج کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader