ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 284
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اور حکومت سمیت دوسری تمام چیزوں اس کے اضافی اجزا اور۔ عرصہ سے میرا ذوق یہ کہتا تھا کہ ”اسلامی مرکز“ بنا کر کام کرنا درست ہے۔ مگر اسلامی جماعت“ بنا کر کام کرنا درست نہیں۔ آج اچانک ذہن میں یہ بات آئی جنت میں اسلامی مرکز ہو گا، مگر وہاں اسلامی جماعت نہیں ہوگی۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ اسلامی مرکز کا لفظ مرکز عمل کو بتاتا ہے، اور اسلامی جماعت کا لفظ گروہ بندی کو۔ میرا ذوق شاید اسی لئے اول الذکر کو پسند کر رہا تھا اور ثانی الذکر کو ناپسند۔ ۷ اگست ۱۹۹۲ ڈاکٹر جان (Dr. Vallampuri John) مدراس کے ایک عیسائی ہیں۔ وہ اسلام اور دوسرے مذاہب کا تقابلی مطالعہ کر رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں اسلام سے متعلق ان کے کچھ سوالات تھے۔ ان سوالات کی وضاحت کے لئے وہ میرے پاس آئے۔ ان کا ایک سوال یہ تھا کہ اسلام میں حج کو بہت بڑی عبادت بتایا گیا ہے۔ مگر حج میں تو اپنے ملک سے سفر کر کے عرب جانا ہوتا ہے۔ اس لئے حج کی عبادت وہی شخص کر سکتا ہے جو پیسہ والا ہو۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اسلام صرف امیروں کے لئے ہے۔ میں نے کہا کہ اگر حج کے زمانہ میں مکہ جائیں تو آپ اپنے کے ساتھ دیکھیں گے کہ وہاں زیادہ تر حاجی وہ ہیں جو غریب طبقہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ اصل یہ ہے کہ ان چیزوں کا تعلق پیسہ سے نہیں ہے بلکہ ارادہ (will power) سے ہے۔ اگر ارادہ کی طاقت موجود ہو تو آدمی جو چاہتا ہے اس کو کسی نہ کسی طرح بہر حال کر ڈالتا ہے۔ اس کا مشاہدہ آپ خود اپنے تجربہ میں روزانہ کر سکتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ جہاد بالسیف منسوخ ہو گیا۔ میں نے اس پر کہا کہ میں ایسا نہیں کہتا اور نہ مجھے ایسا کہنے کا کوئی حق ہے۔ میں صرف یہ کہتا ہوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader