Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

و اشاعت کی جائے۔ پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں۔ فقہائے اسلام متفقہ طور پر مانتے ہیں کہ قتال حسن لذاتہ نہیں ہے وہ حسن لغیر ہ ہے۔ اور جب قتال حسن لغیرہ ہے تو وہ مطلق طور پر ہر حال میں کیسے مطلوب ہو سکتا ہے۔ ۹ اگست ۱۹۹۲ کچھ لوگوں کے کہنے پر آج میں نے ہندوستانی ٹی وی پر کوئٹ انڈیا کی ڈا کو منٹری دیکھی۔ اس میں ہندوستان کی جنگِ آزادی کو تفصیل کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔ مگر اس میں اول سے آخر تک سب کے سب ہندو اشخاص کے نام تھے۔ جدوجہد آزادی کے تمام کارنامے ہندوؤں کے حوالے سے دکھائے جا رہے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ جدوجہد آزادی کے زمانہ میں اس ملک میں نہ تو مسلمانوں کا کوئی وجود تھا اور نہ انھوں نے اس میں کوئی قابلِ ذکر حصہ ادا کیا۔ حالانکہ مسلمان اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس طرح بیان کرتے ہیں جیسے کہ سرفروشی اور قیادت کے تمام کارنامے مسلم شخصیتوں ہی نے انجام دئے۔ عام مسلمان اس واقعہ کو ہند و تعصب کے خانہ میں ڈال کر احتجاج کرے گا۔ مگر میں نے سوچا کہ یہ حبوط اعمال کا معاملہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جہادِ آزادی کے سلسلہ میں مسلمانوں کے تمام اعمال کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا ، گویا کہ یہ سرے سے مطلوب ہی نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ مذکورہ ٹی وی کو دیکھ کر اگر مسلمان احتجاج بلند کریں تو یہ غفلت پر سرکشی کا اضافہ ہو گا۔ مسلمانوں کے لئے صحیح رویہ یہ ہے کہ وہ دل سے اقرار کریں کہ کرنے کا اصل کام دعوت تھا۔ ہم نے بالکل غلط طور پر اپنی طاقتوں کو نام نہاد سیاسی آزادی کی راہ میں ضائع کیا۔ ۱۰ اگست ۱۹۹۲ ۹ اگست ۱۹۴۲ کو مہاتما گاندھی نے کوئٹ انڈیا کی کال دی تھی۔ چنانچہ کل ۹ اگست کو ہندوستانی سیاستانوں اور لیڈروں کی طرف سے دھوم کے ساتھ کوئٹ انڈیا کی تقریبات منائی گئیں ۔ اسی طرح ۱۵ اگست وغیرہ کو بھی ہر سال دھوم کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ اس پر ہندوستان ٹائمس (۱۰ اگست) کے ایڈیٹر منرا تپیچ کے دوا نے ایک مفصل مضمون لکھا ہے جس کا عنوان ہے:

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page