ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 286
By Maulana Wahiduddin Khan
انھوں نے لکھا ہے کہ پچاس سالہ آزادی کے باوجود ہم ملک میں کسی بھی قسم کی کوئی ترقی نہ لاسکے۔ البتہ ماضی کے دنوں کی یاد منا کر فرضی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ ان کے الفاظ میں، تاریخ ان لوگوں کی پناہ گاہ ہے جو خود کچھ زیادہ نہ کر سکے ہوں جس کی وہ تقریب منائیں: عین یہی حال موجودہ مسلمانوں کا ہے۔ ان کے خواص ماضی کے کارناموں پر کتابیں لکھ رہے ہیں اور ان کے عوام ماضی کے کارناموں کی تقریب منا رہے ہیں۔ موجودہ مسلمانوں نے اپنے "شاندار ماضی" کو اپنے لئے ایک ذہنی پناہ گاہ بنا لیا ہے جس میں چھپ کر وہ اپنے برباد حال کو بھلا سکیں۔ ۱۱ اگست ۱۹۹۲ وزیر اعظم ہند مسٹر نرسمہا راؤ کا پیغام ملتا تھا کہ بابری مسجد (ایودھیا) کے مسئلہ پر وہ مجھ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔ آج صبح ساڑھے نو بجے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی۔ میں نے کہا کہ بابری مسجد سے کئی مسئلے وابستہ ہو گئے ہیں۔ اس لئے اس کے حل کا وہی درست طریقہ ہو سکتا ہے جس میں ہر پہلو کی رعایت شامل ہو۔ یہ طریقہ حکم کا اصول ہے۔ یعنی مورخین کا ایک بورڈ بنایا جائے ۔ اس کے متعلق دونوں فریق پیشگی طور پر راضی ہو جائیں کہ اس کا جو بھی فیصلہ ہوگا اس کو وہ مزید بحث کے بغیر مان لیں گے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک میرا اندازہ ہے، مسلمان اس قسم کے بورڈ کے فیصلے کو ماننے پر راضی ہو جائیں گے ، صرف ایک شرط کے ساتھ کہ اس بات کی باضابطہ ضمانت ہو کہ اس طرح کسی اور مسجد کا چیپٹر نہیں کھولا جائے گا۔ بس اسی پر فل اسٹاپ ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس کی ضمانت تو یہ ہے کہ پارلیمنٹ نے یہ قانون بنا دیا ہے کہ ۱۹۴۷ میں جو عبادت خانہ جس حالت میں رہا ہو بس اسی حالت میں اس کو باقی رکھا جائے ، اس میں کسی کو کسی نوعیت کی تبدیلی کا اختیار نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader