Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 287

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان عام طور پر تنقید کو برداشت نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ تنقید اور اختلاف رائے سے ذہنی ترقی ہوتی ہے۔ اور جہاں تنقید اور اختلاف کا ماحول ختم ہو جائے وہاں صرف ذہنی جمود باقی رہ جائیگا اور آج مسلمان پوری طرح ذہنی جمود کا شکار ہو چکے ہیں۔ ۱۳ اگست ۱۹۹۲ تازہ الرسلہ کے صفحہ اول کا مضمون ہے : صحیح رخ سے دیکھنے والے کو دنیا امیدوں سے بھری ہوئی نظر آتی ہے، اور غلط رخ سے دیکھنے والے کو نا امیدیوں سے۔ شفیع الدین صاحب نے ٹیلی فون پر کہا کہ یہ باتیں آپ اپنے ذہن سے کہتے ہیں یا قرآن سے۔ میں نے کہا کہ یہ عین قرآنی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ مذکورہ جملہ کسی قرآنی آیت کا ترجمہ ہے۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ باعتبار مفہوم وہ قرآن سے ماخوذ ہے۔ اور یہ کہ قرآن کے مطابق مایوسی کفر ہے۔ (یوسف ، ۸۷) پھر جب مایوسی کفر ہے تو اس کے بعد امید کے سوا اور کیا چیز باقی رہتی ہے۔ ۱۴ اگست ۱۹۹۲ ٹائمس آف انڈیا (۴ اگست ۱۹۹۲) میں مشہور ہند و دانشور گری لال جین کا مضمون اجودھیا آشوب پر چھپا ہے۔ اس میں انھوں نے بتایا ہے کہ چار اسباب ایسے ہیں جنھوں نے ہندستانی مسلمانوں (ان کے لفظوں میں انڈین اسلام) کی حیثیت کو بہت کمزور کر دیا ہے۔ اس میں لکھتے ہیں کہ انڈین اسلام کو 1965 اور 1971 میں ایک اور اساسی تبدیلی کو برداشت کرنا پڑا جب کہ مسلمانوں کی بہادرانہ عظمت کے افسانہ کو میدان جنگ میں دفن کر دیا گیا : Indian Islam underwent another radical change in 1965 and 1971 when the myth of superior Muslim valour was laid to rest on the battlefield. (p. 8) اسلام کی شاندار تاریخ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کے لئے بہت بڑی نعمت تھی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page