Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 288

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اقدامات ان کے لئے الثانیہ بر آمد کرنے والے ثابت ہوئے۔ دین دیال ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (دہلی) میں ہر سال ۱۵ اگست کو اجتماع ہوتا ہے۔ آج بھی وہاں ایک اجتماع تھا۔ ان کی دعوت پر میں نے اس میں شرکت کی۔ یہاں سب کے سب آرایس ایس اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے لوگ تھے۔ لال کرشن آڈوانی، جارج فرنانڈیز اور ڈاکٹر ہمیش چوپڑا کی تقریریں ہوئیں۔ لال کرشن آڈوانی نے واضح طور پر اعتراف کیا ہندوؤں میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی موجودہ مقبولیت مثبت وجوہ کی بنا پر نہیں ہے بلکہ منفی وجوہ کی بنا پر ہے۔ یعنی ہندو ازم سے لگاؤ کی بنا پر ایسا نہیں ہوا ہے بلکہ اینٹی ہندو تحریک کے ردعمل میں ایسا ہوا ہے۔ ۱۶ اگست ۱۹۹۲ ندوہ کے کچھ اساتذہ سے بات ہورہی تھی۔ انھوں نے ایمان و یقین کا لفظ استعمال کیا۔ میں نے کہا کہ میں ایمان کی تشریح کے لئے یقین کے لفظ کو ناقص سمجھتا ہوں۔ کیوں کہ ایمان کی اصل اکتشاف ہے اور اکتشاف کا تصور یقین میں براہ راست طور پر نہیں آتا۔ اس لئے ایمان کی تشریح کے لئے صحیح لفظ معرفت ہے۔ اور یہی لفظ قرآن وحدیث میں استعمال ہوا ہے۔ مثلاً المائدہ ۸۳، اور مسلم کی وہ روایت جس میں من قال لا الہ الا اللہ کے بجائے من عرف ان لا الہ الا اللہ کا لفظ آیا ہے۔ ۱۷ اگست ۱۹۹۲ آج میں انڈیا انٹرنیشنل سنٹر (نئی دہلی) کے ایک سیمنار میں شریک ہوا۔ اس میں زیادہ تر تعلیم یافتہ ہندو تھے۔ اندازہ ہے کہ ہندوؤں کے درمیان اتنے زیادہ اختلافات ہیں کہ مسلمان اگر کچھ نہ کریں، صرف خاموش ہو جائیں، تب بھی اس ملک سے ہندو مسلم مسئلہ ختم ہو جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page