ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 289
By Maulana Wahiduddin Khan
پاکستان کے فارن سیکریٹری مسٹر شہریار خان کی قیادت میں پاکستان کا ایک سرکاری وفد نئی دلی آیا ہے تاکہ کشمیر کے مسئلہ پر بات کرے۔ وفد نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کا ایک خط وزیر اعظم ہند رسہمارائو کو دیا۔ اس میں پاکستانی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کو شملہ معاہدہ کی روشنی میں کشمیر کے مسئلہ کا حل تلاش کرنا چاہئے۔ اسی بات کو آج کے اخبارات نے اپنی سرخی بنایا ہے۔ پائیر (۱۸ اگست) کی سرخی یہ ہے: Sharif for dialogue on Kashmir under Shimla Agreement نواز شریف اسلامی جمہوری اتحاد کے لیڈر ہیں اور دو سال پہلے الیکشن میں اس کی کامیابی کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم بنے ہیں۔ اس الیکشن میں اسلامی جمہوری اتحاد کا نعرہ تھا : لینا ہے اب کشمیر ٹوٹے شملہ کی زنجیر۔ مگر اب امریکہ نے یہ کہہ دیا کہ کشمیر کے معاملہ میں اقوام متحدہ کی تجویزیں فرسودہ ہو چکی ہیں۔ اب دونوں ملکوں کو شملہ معاہدہ کے تحت اس مسئلہ کو حل کرنا چاہئے۔ اس کے بعد پاکستان کی زبان بدل گئی۔ اسلامی جمہوری اتحاد نے یہی بات پہلے کہی ہوتی تو وہ اصول کی بات ہوتی۔ مگر اب وہ مصلحت کی بات ہے۔ ۱۹ اگست ۱۹۹۲ ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو ایک اردو اخبار کے ایڈیٹر ہیں، ان سے گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ ہندو مسلم فساد کا سب سے بڑا سبب اردو اور ہندی کے اخبارات ہیں۔ ہندوستان کے بڑے بڑے انگریزی اخبارات عام طور پر واقعات کی ابجیکٹور پورٹنگ کرتے ہیں لیکن انگریزی اخبارات کو پڑھنے والے تو بہت کم ہیں۔ زیادہ تر یہ ہے کہ مسلمان اردو اخبار پڑھتے ہیں اور ہندو ہندی اخبار۔ اور اردو ہندی دونوں اخبارات کی رپورٹنگ ناقص ہوتی ہے۔ اردو اخبار یہ کرتے ہیں کہ فرقہ وارانہ مسائل میں ہندو زیادتی کو مبالغہ آمیز طور پر بیان کرتے ہیں۔ اور مسلمان کی زیادتی کو حذف کر دیتے ہیں۔ دوسری طرف ہندی اخبارات مسلمانوں کی زیادتی کو خوب بڑھا کر لکھتے ہیں اور ہندو زیادتی کو حذف کر دیتے ہیں۔ اس طرح دونوں ہی فرقوں میں غیر متوازن فکر بنتا ہے جو بار بار باہمی جھگڑوں کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader