Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 290

By Maulana Wahiduddin Khan

مذکورہ مسلمان ایڈیٹر نے کہا کہ آپ انگریزی اخبار سے مرعوب ہیں۔ آپ فلاں تاریخ کا ٹائمز آف انڈیا دیکھیے۔ اس میں فلاں فساد کی بابت لکھا ہے کہ ایک فرقہ کا ایک آدمی ماراگیا۔ حالانکہ اس میں چار مسلمان شہید ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ میں نے انگریزی اخباروں کی رپورٹنگ کو نسبتاً ابجیکٹو کہا ہے نہ کہ پرفیکٹ رپورٹنگ ۔ آپ انتشار کو عموم کے برابر قرار دے رہے ہیں۔ انگریزی اخباروں میں اس قسم کی بات کبھی کبھی استثنائی طور پر ہوتی ہے، جبکہ اردو اور ہندی اخباروں میں یہی عمومی طور پر ہوتا ہے۔ ۲۰ اگست ۱۹۹۲ ۱۵ اگست ۱۹۹۲ کو وزیر اعظم نرسمہاراؤ کی تقریر لاکھوں لوگوں نے لال قلعہ کے میدان میں یا ٹی وی اور ریڈیو پر سنی۔ مجھے اس تقریر میں ان کی یہ بات بہت پسند آئی کہ ہمارے باہمی نزاعات نے ملک کی ترقی کو روک رکھا ہے۔ اس لئے ہمیں ان نزاعات کے سلسلہ میں تین سال کے لئے مورے ٹوریم (moratorium) کا طریقہ اختیار کرنا چاہئے : آج ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی تو وہ نرسمہاراؤ کی مذکورہ تقریر کی مذمت کرنے لگے انھوں نے کہا کہ نرسمہاراؤ اپنے کو سیکولر بتاتے ہیں حالانکہ ان میں اور فرقہ پرست ہندوؤں میں کوئی فرق نہیں۔ اب دیکھئے کہ نرسمہاراؤ نے اپنی پندرہ اگست کی تقریر میں قومی اقتصادیات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ " سور یہ مہاراج بھی ہمارے اوپر مہربان ہیں۔ ہم اس سے بڑے پیمانہ پر سولر انرجی حاصل کر سکتے ہیں : ہر بات کے کچھ روشن پہلو ہوتے ہیں اور کچھ تاریک پہلو۔ عقل مند وہ ہے جو روشن پہلو کو لے اور تاریک پہلو کو نظر انداز کر دے۔ مگر مسلمانوں کا مزاج اس کے بالکل برعکس ہے۔ وہ ہمیشہ تاریک پہلو کر لیتے ہیں اور روشن پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں، موجودہ مسلمانوں کی بربادی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ ایک ہفتہ پہلے اتر پردیش کے ایک مسلم نوجوان نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا تھا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page