ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 30
By Maulana Wahiduddin Khan
وجہ یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مغربی قوموں نے مسلمانوں سے ان کا سیاسی اقتدار چھین لیا۔ چنانچہ تمام مسلمان دفاعی نفسیات میں مبتلا ہوگئے۔ اس نفسیات کی بنا پر وہ یا تو مغربی قوموں سے سیاسی لڑائی میں مشغول ہو گئے۔ جیسے جمال الدین افغانی، محمد علی جوہر، ابوالکلام آزاد، محمود حسن دیو بندی، وغیرہ۔ کچھ دوسرے لوگ تحفظ کی تدبیروں میں لگ گئے۔ انھوں نے دینی مدرسے قائم کئے، تبلیغی جماعت جیسی تحریک شروع کی۔ ہندو دفاعی نفسیات سے خالی تھا۔ اس لئے وہ اپنے مذہبی سرمایہ کا مبلغ بن کراٹھا۔ مسلمان دفاعی نفسیات میں مبتلا ہونے کی بنا پر یا سیاسی لڑائی میں مشغول رہے یا ذاتی تحفظ کی تدبیروں میں۔ اسلام کے مثبت دینی سرمایہ کو لے کر اٹھنے کا مزاج ان میں پیدا ہی نہ ہوسکا۔ ۱۳ فروری ۱۹۹۱ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو ناقابل بیان حد تک عجیب صلاحیتیں دی ہیں۔ اس عطیہ کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ معطی کا اعتراف کیا جائے ۔ اسی اعتراف خداوندی کا نام شکر ہے۔ سوچنے والے ذہن کو چاہئے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ کے بارے میں سوچے ۔ تڑپنے والے دل کو چاہئے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ کی یاد میں تڑپے۔ زبان گویا کو چاہئے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ کے لئے گویا ہو۔ چشم بینا کو چاہئے کہ وہ سب سے زیادہ اللہ کی نشانیوں کو دیکھے۔ اور اسی طرح تمام دوسرے عطیات۔ ۱۵ فروری ۱۹۹۱ قرآن میں ہے کہ اے ایمان والو ، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو تم کرتے نہیں۔ یہ اللہ کے نزدیک بہت گناہ کی بات ہے کہ تم وہ کہو جو تم کرو نہیں (یا ایہا الذین آمنو الم تقولون ما لا تفعلون - کبر مقتآ عند اللہ ان تقولوا اما لا تفعلون) اس کی تشریح اگر الفاظ بدل کر کی جائے تو وہ یہ ہو گی کہ زندگی میں آدمی کو ہمیشہ دو میں سے ایک کا چوائس ہوتا ہے۔ مگر اکثر اوقات وہ تیسرا چوائس لیتا ہے۔ جہاد کے سلسلہ میں ایک چوائس یہ ہے کہ آدمی جہاد کرے ، دوسرا یہ کہ وہ جہاد نہ کرے۔ مگر آدمی یہ کرتا ہے کہ وہ تیسرا چوائس لیتا ہے یعنی وہ نہ تو جہاد کرتا ہے اور نہ جہاد کرنے والوں میں شامل ہوتا ہے۔ اس کے بجائے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader