Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 291

By Maulana Wahiduddin Khan

کہ اب مسلمان تنگ آمد بجنگ آمد پر اتر آیا ہے۔ اب سلمان اسلم بنارہے ہیں اور انہوں نے طے کرلیا ہے کہ ہندوؤں کو ایسا سبق سکھائیں کہ وہ پھر ان کے خلاف ہمت نہ کر سکیں۔ میں نے ان کے جوش کو دیکھ کر ان سے کوئی بحث نہیں کی۔ صرف یہ کہا کہ یہ مسئلہ کا حل نہیں ہے۔ مسلمانوں کی اس نادانی کا نتیجہ بہت جلد سامنے آگیا۔ قومی آواز (۲۰ اگست ۱۹۹۲) میں رام پور کے بارہ میں یہ خبر چھپی ہے کہ ۱۹ اگست کو وہاں کی پولیس نے چھاپہ مار کر ناجائز اسلم کی تین فیکٹریاں برآمد کیں۔ کپتان پولیس رجنی کا نت مشرا نے قومی آواز کے نمائندہ کو بتایا کہ رام پور میں پچھلے دو ماہ کے دوران چودہ ناجائز اسلحہ کی فیکٹریاں پکڑی گئی ہیں، اور ان سے بہت بڑی تعداد میں ناجائز اسلحہ برآمد کیا گیا ہے۔ اس سلسلہ میں جو لوگ گرفتار کئے گئے ہیں وہ سب کے سب مسلمان ہیں۔ ملزم فرید نے پوچھ گچھ کے بعد اقبال کیا کہ گزشتہ دنوں وہ ۸۰۰ ریوالور کلکتہ، آسنول، سیوان، چھپرہ وغیرہ میں فروخت کر کے لوٹا ہے۔ ان سے پوچھ گچھ کے دوران اور بھی کئی انکشافات کئے۔ اس خبر کو پڑھ کر میں نے ایک صاحب سے کہا کہ اس قسم کی ہر تند پیر مسئلہ کو صرف بڑھائے گی، وہ کسی طرح بھی اس کو کم کرنے والی نہیں۔ ۲۲ اگست ۱۹۹۲ علماء اور فقہاء کا اجماع ہے کہ قائم شدہ مسلم حکمران کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔ موجودہ زمانہ میں کچھ لوگ اپنے سیاسی اقدامات کے جواز کے لئے کہتے ہیں کہ اس معاملہ میں اجماع کا دعویٰ غلط ہے۔ اس کا ایک ثبوت، ان کے نزدیک ، امام ابوحنیفہ کا واقعہ ہے۔ زید بن علی نے ۱۲۲ ھ میں اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کے خلاف خروج کیا۔ انھوں نے عراق کے اموی حاکم یوسف بن عمر ثقفی کے خلاف جنگ کی۔ کہا جاتا ہے کہ اس موقع پر امام ابو حنیفہ نے زید بن علی کی مالی مدد کی تھی۔ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بنی امیہ کے خلاف زید بن علی کے خروج میں امام ابو حنیفہ نے خود ان کی مالی مدد کی۔ (تفہیم القرآن ۸۰/۵) مولانا ابوالاعلیٰ مودودی نے لکھا ہے کہ حضرت زید بن علی بن حسین ، رحمہ ہشام بن عبد الملک کے خلاف

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page