ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
کی (الفیصل اگست ۱۹۹۲، صفحہ ۳) مگر صرف مالی مدد کو اس معاملہ میں دلیل نہیں بنایا جا سکتا۔ حضرت حسین نے جب یزید کے خلاف خروج کیا تو فرزدق نے واضح طور پر اس کی مخالفت کی۔ (البدایہ والنہایہ ۱۶۶/۸) مگر اس کے ساتھ فرزدق نے حضرت حسین کی مدد کے لئے چار سو دینار روانہ کئے (جلاء العیون ۴۲) حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا مالی تعاون ہمیشہ انسانی بنیاد (humanitarian ground) پر ہوتا ہے نہ کہ فی الواقع نظریاتی اتفاق کی بنیاد پر۔ ۲۳ اگست ۱۹۹۲ مولانا احمد رضا خاں بریلوی (۱۸۵۶) ایک اچھے عالم تھے، تاہم ان کی نعمتوں کی وجہ سے انہیں بہت شہرت ملی۔ ان کا ایک نعتیہ شعر ہے: سب سے اولیٰ و اعلیٰ ہمارا نبی سب سے بالا و والا ہمارا نبی دیوبندی مکتب فکر کے لوگ مولانا احمد رضا خاں بریلوی کے خلاف ہیں۔ تاہم یہ شعر موجودہ زمانہ کے قریب با تمام مسلمانوں کے ذہن کی نمائندگی کر رہا ہے۔ موجودہ زمانہ کا ہر سلمان اپنے پیغمبر کے بارہ میں کسی نہ کسی طرح اسی قسم کے الفاظ بول رہا ہے۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق، اسلام میں اصل کسوٹی ماانا علیہ و اصحابی ہے۔ یعنی رسول اور اصحاب رسول نے جو طریقہ اختیار کیا ہو بس وہی اسلامی طریقہ ہے۔ اس کے سوا جو ہے وہ سب کا سب قابل رد ہے۔ سیرت اور حدیث کی کتابوں سے ثابت ہے کہ رسول یا اصحاب رسول نے کبھی مذکورہ بالا شعر جیسی زبان استعمال نہیں کی۔ اس لئے اس قسم کا اندازہ یقینی طور پر بدعت ہے خواہ اس کو نظم میں استعمال کیا جائے یا نثر میں۔ ۲۴ اگست ۱۹۹۲ پرانا مقولہ ہے کہ الوقت سیف یعنی وقت ایک تلوار ہے۔ یہ مقولہ وقت کی اہمیت کو بتاتا ہے۔ وقت آدمی کے حال اور مستقبل کے لئے قاطع کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا صحیح استعمال آدمی کو زندگی دیتا ہے۔ اور وقت کا غلط استعمال آدمی کو ہلاک کر دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader