ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 293
By Maulana Wahiduddin Khan
کشمیر کے کچھ لوگ ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ کشمیر میں پچھلے تین سال سے جو مسلح تحریک چلا رہے ہیں، اس کا کوئی بھی مفید نتیجہ نکلنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس تخریبی تحریک کے نتیجہ میں دومیں سے ایک بربادی کشمیر کا مقدر بن چکی ہے۔ کشمیر اگر آزاد نہ ہو تو اس کو انڈیا کے ہاتھوں برباد ہونا ہے۔ اور اگر وہ بالفرض آزادھی حاصل کرلے تو اس کے بعد اس کو خود آپس کی لڑائی برباد کر دے گی، جیسا کہ اس وقت افغانستان میں ہو رہا ہے۔ ۲۶ اگست ۱۹۹۲ ماضی بہت جلد لوگوں کے لئے ان کے قومی فخر کا جزو بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی کا بے لاگ جائزہ عام طور پر لوگوں کو پسند نہیں آتا۔ مگر ماضی کا بے لاگ جائزہ کی بے حد اہمیت ہے۔ کیوں کہ وہ حال میں دوبارہ اس قسم کی غلطی سے بچاتا ہے، کسی نے صحیح کہا ہے کہ وہ لوگ جو تاریخ کو نظر انداز کریں وہ تاریخ کو دہرانے کی غلطی کریں گے: Those who ignore history are condemned to repeat it. ۲۷ اگست ۱۹۹۲ ایک تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ وہ پچھلے آٹھ سال سے اپنے بچوں کے ساتھ انگلینڈ میں رہتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ آپ نے دونوں ملکوں کو دیکھا ہے۔ ہندوستان اور انگلینڈ میں آپ نے کیا خاص فرق پایا۔ انھوں نے کہا کہ انگلینڈ میں زندگی کافی پرسکون ہے ، جب کہ ہندوستان میں سکون کی زندگی ممکن نہیں۔ میں نے کہا کہ آپ نے دونوں ملکوں کے درمیان جو تقسیم کی، اس میں ہندوستان لازماً برادکھائی دیتا ہے اور انگلینڈ لازماً اچھا نظر آتا ہے۔ لیکن اگر آپ ایک اور اعتبار سے تقسیم کریں تو معلوم ہوگا کہ انگلینڈ کے مقابلہ میں ہندوستان لازماً اچھا ہے۔ وہ تقسیم یہ کہ ہندوستان میں چیلنج ہے، جب کہ انگلینڈ میں چیلنج نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ عام آدمی یہ سمجھے گا کہ چیلنج کی زندگی مصیبت ہے اور بے چیلنج زندگی ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader