ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 294
By Maulana Wahiduddin Khan
ہیں۔ اس طرح چیلنج کی صورتحال آدمی کی شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ پاکستان کے ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ واقعات نے ثابت کر دیا ہے کہ اقبال اور جناح کا دو قومی نظریہ ہی صحیح نظریہ تھا۔ میں نے کہا کہ جس چیز کو آپ واقعات کہہ رہے ہیں وہ حقیقتاً آپ کے لیڈروں کی تقسیم یا دو قومی نظریہ کا رد عمل ہے۔ اگر تقسیم کی تحریک یا دو قومی تحریک نہ چلائی جاتی تو وہ واقعات بھی پیش نہ آتے جن کا حوالہ آپ دے رہے ہیں۔ پھر میں نے ان کو لاہور کے اخبار "نوائے وقت" (۲۸ جولائی ۱۹۹۲) کا صفحہ ۱۱ دکھایا ۔ اس میں ایک مضمون بھارت کے بارے میں ہے۔ اس کا عنوان ہے: ہمارا دشمن کیا کر رہا ہے، اور ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ میں نے کہا کہ پاکستان کے اخبار میں مستقل طور پر اس قسم کے مضامین چھپتے رہتے ہیں۔ یہ دو قومی نظریہ کا نتیجہ ہے۔ دو قومی نظریہ کا ایک عظیم نقصان یہ ہے کہ وہ پیشگی طور پر کسی گروہ کو دشمن سمجھ لیتا ہے۔ حالانکہ پیشگی مفروضہ کے طور پر کسی کو دوست یا دشمن قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ۲۹ اگست ۱۹۹۲ پاکستانی اخبارات میں ایسے مضامین چھپتے رہتے ہیں جن میں فرقہ واریت کو ہوا کہا جاتا ہے۔ مثلاً نوائے وقت یکم اگست ۱۹۹۲ میں ایک مضمون کا عنوان ہے : فرقہ وارانہ کشیدگی، زہر قاتل اخبار وفاق (۳۰ اگست ۱۹۹۲) میں بتایا گیا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف نے اعلان کیا ہے کہ فرقہ وارانہ جماعتوں پر پابندی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور عنقریب اس مقصد کے لئے قومی اسمبلی میں بل پیش کر دیا جائے گا۔ صفحہ ۳ پاکستان کی تحریک تفریق کے نظریہ پر اٹھائی گئی ۔ اس تحریک نے پچاس سال تک مسلمانوں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader