ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 295
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب کو میں نے اسلامی مرکز کے دفتر میں ناظم کے طور پر رکھا۔ ان کو ہر طرح کی عزت اور آسودگی دی۔ مگر دو سال بعد وہ ایک بہت بڑا دھوکا دے کر یہاں سے بھاگ گئے۔ اس کے بعد وہ مستقل طور پریشان رہنے لگے۔ ایک عرصہ کے بعد ان کے ایک دوست انھیں لیکر آئے اور کہا کہ ان کو معاف کر دیجئے اور ان کو دوبارہ اپنے یہاں رکھ لیجئے۔ میں نے کہا کہ جہاں تک معافی کا تعلق ہے تو ان کی غلطی سے پہلے ہی میں ان کو معاف کر چکا ہوں، کیوں کہ اللہ سے میں نے یہ عہد کیا ہے کہ آخرت میں کسی کے خلاف میرا کوئی مقدمہ نہیں۔ اور جہاں تک دوبارہ کام دینے کا تعلق ہے تو مذکورہ واقعہ کے بعد اب میں دوبارہ ان کا تجربہ نہیں کر سکتا۔ ۳۱ اگست ۱۹۹۲ خلیفہ ثانی عمر فاروق کے زمانہ تک غلامی کا رواج ختم نہ ہو سکا تھا۔ تاہم انھوں نے اہل عرب کی حد تک اس کے خاتمہ کا اعلان کر دیا۔ خلیفہ اول کے زمانہ میں مرتدین سے جنگ ہوئی۔ اس سلسلہ میں مرتد قبائل کے کچھ لوگ لونڈی غلام بنائے گئے جو سب کے سب عرب تھے۔ حضرت عمر نے ان سب کو آزاد کر دیا کہ کوئی شخص کسی عربی کو غلام نہ بنائے۔ اس سلسلہ میں ان کا یہ حکم نقل کیا گیا ہے کہ کسی عربی کو غلام نہیں بنایا جا سکتا (لا يسترق عربي) امام احمد بن حنبل نے اس کو نسلی امتیاز کے ہم معنی قرار دیا اور اس سے سخت اختلاف کیا۔ ان کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ میں عمر کی اس رائے کو قبول نہیں کرتا کہ اہل عرب غلام نہیں ہو سکتے۔ (لا اذهب الى قول عمر ليس علی عربي ملك) اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ دور اول میں تنقید اور اظہار رائے کی کتنی زیادہ آزادی تھی۔ یکم ستمبر ۱۹۹۲ سنت کی تین قسمیں ہیں: قول، فعل اور تقریر۔ علما اصول کا کہنا ہے کہ فعل رسول سے اس فعل کا صرف مباح ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اس سے وجوب ثابت نہیں ہوتا۔ مثلاً حدیث

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader