Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 296

By Maulana Wahiduddin Khan

میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کدو کھایا اور اس کو پسند کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کدو کھانا مسلمانوں پر واجب یا فرض ہے۔ اس فعل سے صرف کدو کھانے کی اباحت معلوم ہوتی ہے۔ امام الشاطبی (م ۷۹۰ھ) نے لکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فعل صرف اجازت کی دلیل ہے۔ جب تک کہ کوئی قول یا قرینہ حال یا کوئی اور چیز اس کے خلاف پر دلالت نہ کرے۔ یعنی جب تک اس کے خلاف قول یا قرینہ کی کوئی دلیل نہ پائی جائے (فالفعل منہ صلی اللہ علیہ وسلم دلیل علی مطلق الاذن فيه مالم يدل دليل علی غيرہ من قول او قرینة حال او غيرهما)، الموافقات في اصول الاحکام، للشاطبی، الجزء الرابع، صفحہ ۳۲)، اس اصول کا انطباق ہر معاملہ میں ہوگا۔ مثلاً اگر روایت سے معلوم ہو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حکومت قائم کی تو صرف اس فعل سے یہ ثابت نہ ہوگا کہ حکومت قائم کرنا مسلمانوں پر فرض ہے، جب تک اس مفہوم کی حدیث موجود نہ ہو کہ "اے مسلمانوں تم لوگ حکومت قائم کرو۔" ۲ ستمبر ۱۹۹۲ نوائے وقت (۲۰ اگست ۱۹۹۲) میں ڈاکٹر اے آر خالد کا ایک مضمون چھپا ہے، اس کا عنوان ہے "عہد حاضر میں نظام خلافت" اس مضمون کا ایک حصہ یہ ہے: "قائد اعظم اور علامہ اقبال سیاست میں ایک دوسرے کے حریف تھے۔ ۱۹۲۰ء کی تجاویز دہلی کی قائد اعظم حمایت کرتے ہیں، علامہ اقبال مخالفت کرتے ہیں۔ ان کی رائے یہ ہے کہ مسلمان جداگانہ انتخابات کے حق سے دستبردار نہ ہوں۔ ۱۹۲۸ میں سائمن کمیشن کی قائد اعظم مخالفت کرتے ہیں۔ لیکن ڈاکٹر اقبال سر شفیع کے ہمراہ اس سے تعاون کرتے ہیں۔ نہرو رپورٹ کو قائد اعظم چند ترمیمات کے ساتھ قبول کرنے کو تیار ہیں اور اقبال اسے یکسر مسترد کرتے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔ مگر دونوں افراد ایک دوسرے کے بارے میں کبھی بھی ایک دوسرے سے ناگوارگی نہیں اٹھائی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page