Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 297

By Maulana Wahiduddin Khan

مسلمان میں مجھے نظر نہیں آتی۔ حاضرین میں سے کسی نے پوچھا کہ وہ خوبی کیا ہے۔ اقبال نے انگریزی میں جواب دیا : He is incorruptible and unpurchasable یہ اختلاف کے باوجود اعتراف کی ایک مثال ہے۔ ۳ ستمبر ۱۹۹۲ء ڈاکٹر جاوید اقبال (فرزند علامہ اقبال) کا ایک انٹرویو نوائے وقت (۲۸ اگست ۱۹۹۲) میں چھپا ہے۔ اس میں وہ کہتے ہیں کہ ایک ہے اسلام کے بارے میں روایتی اپروچ (conventional approach to Islam) اور دوسرا ہے اسلام کے بارے میں جدید اپروچ (Modernist approach to Islam) روایتی اپروچ کا مطلب ہے قدیم کو ویسا کا ویسا ہی لینا ہے۔ اور جدید اپروچ سے مراد یہ ہے کہ اسلام کو حالات کے مطابق ڈھال کر اسے اختیار کرنا۔ مگر یہ طرز فکر صحیح نہیں۔ اصل مسئلہ اسلام کو جدید حالات کے مطابق ڈھالنے کا نہیں ہے بلکہ اسلام کو جدید حالات کے مطابق نئی تعبیر (reinterpretation) دینے کا ہے۔ یہ انطبا ق کا مسئلہ ہے نہ کہ تبدیلی کا مسئلہ۔ ۴ ستمبر ۱۹۹۲ء قرآن میں ہے بنی آدم کو ہم نے اپنی بہت سی مخلوقات پر فضیلت دی (بنی اسرائیل، ۷۰)، اس آیت کے ذیل میں مفسرین نے بہت لمبی بحثیں کی ہیں۔ خاص اختلاف اس پر ہے کہ کیا انسان کو ملائکہ پر بھی فضیلت حاصل ہے۔ اس سلسلہ میں کئی مسلک پیش کئے گئے ہیں۔ (دیکھوکشاف، ابن کثیر، روح المعانی، وغیرو) میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کے سلسلہ میں اصل قابل توجہ چیز تقالے کے واقعہ ہے نہ کہ خود واقعہ۔ ہماری توجہ کا رخ یہ نہیں ہونا چاہئے کہ انسان کس کس مخلوق سے افضل ہے اور کیا وہ ملائکہ سے بھی افضل ہے۔ اصل اہمیت کی چیز یہ ہے کہ اللہ تعالی کے اس اعلان کو بطور انعام دیکھا جائے اور اس پر گہرے شکر کا response دیا جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page