ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 298
By Maulana Wahiduddin Khan
۵ستمبر ۱۹۹۲ فارسی شاعر نے یہ شعر کہا کہ بادشاہ اگر دن کے بارہ میں کہے کہ یہ رات ہے تو دوسروں کو کہنا چاہئے کہ بادشاہ نے صبح کہا۔ دیکھو یہ چاند، تارے نکلے ہوئے ہیں: اگر شد روز را گوید شب است این باید گفت اینک ماه و پروین بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس قوم کو اس طرح کی تعلیم دی جائے وہ غلامانہ ذہنیت کا شکار ہو جائے گی۔ وہ آزادی کے بارہ میں سوچ نہیں سکتی۔ مگر واقعات بتاتے ہیں کہ اس قسم کے اشعار کے باوجود ایران میں شاہ کے خلاف جذبات پیدا ہوئے۔ یہ شاہ مخالف تحریک اتنی بڑھی کہ خود بادشاہی نظام کا خاتمہ ہوگیا۔ ۶ستمبر ۱۹۹۲ ایک ہند و تعلیم یافتہ شخص سے نیشنل انٹیگریشن کے مسئلہ پر بات ہوئی۔ گفتگو کے دوران میں نے کہا کہ مجھے آپ لوگوں کے مقصد سے اتفاق ہے مگر آپ کے طریق کار سے اختلاف ہے۔ آپ لوگ سمجھتے ہیں کہ ہندوستان میں قومی ایگالگیشن (amalgamation) کے ذریعہ آسکتی ہے۔ میرا کہنا یہ ہے کہ قومی ایکتا کا ذریعہ صرف ایک ہے، اور وہ ٹالرس (tolerance) ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کا طریقہ بہت بڑے پیمانے پر آزمانے کے بعد ناکام ہو چکا ہے۔ شہنشاہ اکبر نے طاقت کے زور سے اس کو نافذ کرنا چاہا۔ مہاتما گاندھی نے ماس موممنٹ کے ذریعہ اس کو پیدا کرنے کی کوشش کی ۔ ڈاکٹر بھگوان داس نے ۳۰ سال کی محنت سے اپنی مشہور کتاب (The Essential unity of all World Religions) لکھی اور اس طرح علم کے زور پر اس کو لانا چاہا ، مگر ہر ایک اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ ۷ستمبر ۱۹۹۲ ایک حدیث میں ہے کہ اپنے مال کو اپنی جان سے کم تر بیدو اور اپنی جان کو اپنے دین سے کم تر دو ( اجعل مالك دون نفسك و نفسك دون دينك) سند کے اعتبار سے یہ حدیث زیادہ قوی نہیں۔ تاہم معنی کے اعتبار سے وہ درست ہے۔ ہر آدمی کے اندر یہی کیفیت پائی جانی چاہئے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader