Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 299

By Maulana Wahiduddin Khan

فقہاء کا یہ مسلک ہے کہ حکمران کے اقدامات کو مصلحت عامہ کے تابع ہونا چاہئے۔ ابن نجیم نے لکھا ہے : تصرف الامام منوط بالمصلحة رعیت کے اوپر حاکم کا حکم اور تصرف مصلحت کے ساتھ بندھا ہوا ہے، (الاشباہ لابن نجیم ۱/ ۱۵) یہ اصول نہایت درست ہے۔ مگر کوئی اصول یا قانون خواہ کتنا ہی درست ہو اس کے صحیح نفاذ کے لئے صحیح حاکم کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اگر حاکم صحیح نہ ہو تو وہ اس اصول کے حوالے سے ایسے اقدامات کرے گا جس کا اس اصول سے حقیقتاً کوئی تعلق نہ ہوگا۔ ۹ ستمبر ۱۹۹۲ فیملی پلاننگ کا نعرہ ہندوستان میں بھی ہے اور پاکستان میں بھی۔ ہندوستان میں اس کے لئے "ہم دو ہمارے دو" کے الفاظ بولے جاتے ہیں، اور پاکستان میں اس کے لئے یہ الفاظ وضع کئے گئے ہیں : بچے دو ہی اچھے ۔ ۱۹۴۷ سے پہلے جن لوگوں نے " پاکستان کا مطلب لا الہ الا اللہ" بتایا تھا۔ ان کو اس کے لئے شاندار الفاظ مل گئے تھے۔ اب جو لوگ پاکستان کو اس کے برعکس بنیاد پر چلانا چاہتے ہیں ان کو بھی دو بارہ شاندار الفاظ مل رہے ہیں۔ کیسی عجیب ہے یہ دنیا، اور کیسے عجیب ہیں اس دنیا کے معاملات۔ ۱۰ ستمبر ۱۹۹۲ انسان کو خدا نے عقل دی تھی تاکہ وہ ظاہری چیزوں پر غور کر کے باطنی چیزوں کو دریافت کرے۔ انسان نے اپنی عقل کو کامیاب طور پر استعمال کیا۔ اسی استعمال کا نتیجہ وہ چیز ہے جس کو سائنس اور ٹیکنیکل ترقی کہا جاتا ہے۔ فطرت کے مظاہر پر غور کر کے فطرت کی طاقتوں کو دریافت کرنا اسی کا نام سائنس ہے۔ اور یہ کام انسان نے بہت بڑے پیمانہ پر کیا ہے۔ مگر عقل کا اس سے زیادہ بڑا اور اصلی استعمال یہ تھا کہ وہ مخلوقات میں غور کر کے ان کے خالق کو دریافت کر لیتا ، وہ آیات کائنات کے ذریعہ حقیقتِ کائنات کو پالتا، مگر یہاں انسان اپنی عقل کے استعمال میں ناکام رہا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page