Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 300

By Maulana Wahiduddin Khan

خلیجی عرب کے چھ وزرائے خارجہ کا دوروزہ اجتماع جدہ میں ہوا۔ اس میں ایک متفقہ ریزولیوشن کے ذریعہ جزیرہ ابوموسیٰ پر قبضہ کے خلاف ایران کو سخت انتباہ دیا گیا۔ ابوموسیٰ ۹۰ مربع کلومیٹر ہے۔ یہ جزیرہ شارجہ کی ملکیت سمجھا جاتا ہے جو ۱۹۷۱ میں متحدہ عرب امارات میں ضم ہو گیا تھا۔ چھ خلیجی ملکوں میں کویت بھی شامل ہے۔ ۱۹۷۱ کے عبوری سمجھوتہ کے تحت جزیرہ ابوموسیٰ عرب امارات کی ملکیت ہے۔ اس قسم کے جھگڑے اکثر ملکوں میں ہیں۔ اگر وہ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان ہوں تو وہ فوراً جہاد بن جاتا ہے۔ مثلاً کشمیر، اراتکان، اریٹیریا یا وغیرہ)، مگر اس قسم کے شدید تر نزاعات خود مسلم ملکوں کے درمیان ہیں۔ مثلاً جزیرہ ابوموسیٰ کے لئے عرب امارات اور ایران کا جھگڑا، کویت کے لئے عراق اور الصباح حکمرانوں کا جھگڑا، وغیرہ۔ ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ گنش دتہ کا درسی (۲۷ سال) تقریباً دس سال تک مہاتما گاندھی کے ساتھ رہے ہیں۔ مہاتما گاندھی اپنے آپ کو غریب ہندوستان کا نمائندہ کہتے تھے۔ مگر ان کی غربی کی تصویر کو باقی رکھنے کے لئے کانگریس کو روزانہ دو ہزار روپیہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔ یہ ۶۰ سال پہلے کی بات ہے جب کہ دو ہزار آج کے ایک لاکھ سے بھی زیادہ تھا)، مسٹر گادر سے نے بتایا کہ گاندھی جی کی اس غریبی پر امیرانہ خرچ کرنا پڑتا تھا۔ چنانچہ مسٹر گادر سے کے بیان کے مطابق، سروجنی نائیدو مذاق کے طور پر کہا کرتی تھیں: It takes Birla two thousand rupees per day to keep Gandhi poor. ۱۳ ستمبر ۱۹۹۲ جواہر لال نہرو سوشلسٹ تھے۔ مہاتما گاندھی بھی سوشلسٹ تھے۔ حتیٰ کہ گاندھی کہا کرتے تھے کہ میں سوشلسٹوں سے بڑھ کر سوشلسٹ اور کمیونسٹوں سے بڑھ کر کمیونسٹ ہوں۔ دونوں میں فرق یہ تھا کہ گاندھی سوشلزم کی منزل تک پہنچنے کے لئے (persuasion) میں یقین کرتے تھے۔ اور نہرو جبر (compulsion) میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page