ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ یہ کرتا ہے کہ زور و شور کے ساتھ جہاد پر تقریر کرتا ہے۔ وہ لڑائی نہیں کرتا، البتہ لڑائی کی باتیں کرتا ہے۔ یہ ”تیسرا چوائس“ اللہ کے نزدیک سخت گناہ ہے۔ اس روش کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے، خواہ وہ چھوٹا معاملہ ہو یا بڑا معاملہ۔ مثلاً تحفہ دینے کے معاملہ کو لیجئے ۔ اس سلسلہ میں ایک چوائس یہ ہے کہ آدمی تحفہ دے۔ دوسرا چوائس یہ ہے کہ وہ تحفہ نہ دے۔ مگر بیشتر لوگ تیسرا چوائس لیتے ہیں ۔ یعنی وہ کوئی سستی یا تماشے والی چیز خرید کر تحفہ دیتے ہیں۔ یا جو چیز اپنے لئے بیکار ہو ، اس کو تحفہ میں دے دیتے ہیں۔ یہ تیسرا چوائس لینا ہے، اور تیسرا چوائس کوئی چوائس نہیں۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ وہی چیز ہے جس کو جھوٹا کریڈٹ لینا کہا جاتا ہے۔ ۱۶ فروری ۱۹۹۱ جس آدمی کو عمل نہ کرنا ہو وہ بڑے بڑے الفاظ بولتا ہے، اور جس آدمی کو عمل کرنا ہو وہ چھوٹے الفاظ بولتا ہے۔ عمل پسند انسان چپ رہتا ہے ، وہ جب بولتا ہے تو سوچ سمجھ کر بولتا ہے اور وہی بولتا ہے جو اسے کرنا ہے۔ اس کے برعکس لفظ پسند انسان کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ بولنے ہی کو کام سمجھ لیتا ہے۔ اس کو عمل سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ البتہ ہر معاملہ میں وہ بولنے کا بادشاہ بنا رہتا ہے۔ ۷ فروری ۱۹۹۱ مسلم رہنما اور مقررین پر جوش طور پر کہتے ہیں کہ مسلمان صرف ایک خدا کے آگے جھکتا ہے، وہ کسی اور کے آگے نہیں جھکتا۔ یہ سر جھک چکا اب جھکانا نہیں ہے۔ یہ نہایت غلط ذہن ہے۔ اسی ذہن کا یہ نتیجہ ہے کہ موجودہ مسلمان ایک سرکش قوم بن گئے ہیں۔ جھوٹی اکڑ ان کی خاص صفت ہے۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ جو لوگ خدا کے آگے جھک جائیں وہ اپنی پوری زندگی جھکے ہوئے طریقہ پر گز ارتے ہیں وہ ایک تواضع پسند گروہ بن جاتے ہیں۔ سجدہ اور عبادت کے اعتبار سے بلاشبہ مومن صرف خدا کے آگے جھکتا ہے۔ مگر خدا کے آگے عبادتی جھکاؤ انسانوں کے درمیان اخلاقی جھکاؤ کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔ ایسے آدمی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader