ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
مسٹر گاردر سے نے بتایا کہ مہاتما گاندھی کمیونسٹوں کے بارہ میں خوش فہم تھے۔ ایک بار بمبئی میں کمیونسٹ نوجوانوں کا کیمپ لگا۔ گاندھی جی نے راج گوپال اچاری کو بھیجا کہ جا کر دیکھیں کہ وہ لوگ کیسے ہیں۔ گاندھی جی ان کو گڈ بوائے (good boy) سمجھتے تھے۔ راجہ جی انہیں دیکھ کر آئے تو انہوں نے ایک جملہ میں ان کے بارہ میں یہ رپورٹ دی : They are good, but they are boys. ۱۲ ستمبر ۱۹۹۲ جے ایم رابرٹس (J. M. roberts) کی ساڑھے دس سو صفحہ کی کتاب ہے جس کا نام ہے عالم کی تاریخ : The Pelican History of the world مصنف نے اس کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ اسلام سب سے زیادہ بڑھتا ہوا مذہب ہے ۔ اس کی وجہ اس کے اس الفاظ میں ملتی ہے کہ اسلام معجزات کا (fastest-growing faith) مذہب نہیں ، بلکہ عمل کا اور عقلی عقیدہ کا مذہب ہے : Islam is not a religion of miracles, but of practice and intellectual belief. (p. 335) دوسرے مذاہب (مثلاً مسیحیت) میں معجزات کا حصہ بہت زیادہ ہے۔ مگر اسلام میں اس قسم کے معجزات نہیں۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ دوسرے مذاہب دورِ قدیم کے لئے تھے جبکہ اسلام قیامت تک کے لئے ہے۔ ۱۵ ستمبر ۱۹۹۲ گنیش دتہ گاردرے ( ۲۷ سال) مہاتما گاندھی سے بہت قریب رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آزادی کے آخری مرحلہ میں نہرو اور پٹیل کے درمیان اس معاملہ پر سخت اختلاف تھا کہ آزاد ہندوستان کا وزیر اعظم کون بنے۔ دونوں یکساں طور پر عہدہ کے مدعی تھے۔ سردار پٹیل کے اندر تنظیم کی صلاحیت تھی۔ جواہر لال نہرو کے اندر خطابت کی۔ ایک بار مہاتما گاندھی کی موجودگی میں سردار پٹیل نے اپنا استحقاق ثابت کرتے ہوئے کہا کہ میں نے کانگریس کو منظم

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader