Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 302

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوں۔ تم تو صرف جلسوں میں بھاشن دینا جانتے ہو۔ جواہر لعل نہرو نے جواب دیا کہ اگر میں میں اپنے پاؤں سے ایک ٹھوکر مار دوں تو تمہارے تمام پر زے ہوا میں اڑتے نظر آئیں گے۔ دونوں کے درمیان اتنے سخت اختلافات تھے۔ گاندھی نے کہا کہ تم دونوں مل کر کام کرو۔ کیوں کہ تم دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہو ۔ انھوں نے پٹیل کی مثال باڈی سے دی ۔ اور نہرو کو سول بنایا۔ اس کے بعد سارے اختلافات کے باوجود دونوں مل کر آخر وقت تک کام کرتے رہے۔ اگرچہ وزیراعظم کا عہدہ نہرو کو مل گیا۔ مگر پٹیل نے پھر کبھی اس کی کوشش نہ کی کہ وہ نہرو کو ہٹا کر خود وزیر اعظم کی گدی پر بیٹھ جائیں۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۲ بھائی عارف صاحب نے بتایا کہ مولانا عمر پالن پوری نے ایک بار تقریر میں کہا کہ میں اپنے پاؤں میں کچھ تکلیف کی وجہ سے پہلے یہ کرتا تھا کہ فرض نماز کھڑے ہو کر پڑھتا تھا اور نفل نماز بیٹھ کر ادا کرتا تھا۔ اس کے بعد خیال ہوا کہ مجھ کو آزمانا چاہئے۔ چنانچہ میں نے ایک دو بار کھڑے ہو کر نوافل ادا کئے تو کسی خاص شکل کے بغیر کھڑے ہو کر میں نے نوافل پڑھ لیں۔ پھر میں مستقل طور پر کھڑے ہو کر نفل نمازیں پڑھنے لگا۔ یہ قصہ بتانے کے بعد انھوں نے کہا کہ حالات کے اعتبار سے میں نے اپنے کو معذور سمجھ لیا تھا مگر حقیقت کے اعتبار سے میں معذور نہ تھا۔ ایسا ہی اکثر انسانوں کے ساتھ ہوتا ہے۔ وہ حالات سے سطحی تاثر کے تحت اپنے آپ کو معذور سمجھ لیتے ہیں۔ حالاں کہ حقیقت واقعہ کی نسبت سے وہ معذور نہیں ہوتے۔ ۱۷ ستمبر ۱۹۹۲ تبلیغ کے ایک صاحب نے بتایا کہ مولانا اشرف علی تھانوی نے ایک بار مولا نا الیاس صاحب کی تحریک کے بارہ میں کہا کہ 'الیاس نے یاس کو اس میں بدل دیا۔ مولانا تھانوی نے یہ ہلکا کس مفہوم میں کہا تھا، اس کے بارہ میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تاہم میرا اپنا خیال ہے کہ اس کا ایک مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ مولانا الیاس صاحب نے کم سے کم ممکن (minimum possible) سے آغاز کر کے اس کے لیے لانگر عمل کا موقع فراہم کیا کہ مندرستان کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page