ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 303
By Maulana Wahiduddin Khan
دوسرے علماء کا حال یہ تھا کہ وہ زیادہ سے زیادہ ممکن (maximum possible) سے اپنے عمل کا آغاز کرنا چاہتے تھے۔ اس لئے بے شمار قربانیوں کے باوجود وہ کچھ حاصل نہ کر سکے۔ موجودہ مسائل ملت پر اظہار خیال کرتے ہوئے میں نے ایک صاحب سے کہا کہ قرآن میں ہے کہ فلا تخشوہم و اخشونی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسانی تاریخ میں جو دور آ رہا ہے اس کے بعد تمہارے لئے خشیت کا مسئلہ پیدا نہ ہوتو وہ اللہ کی طرف سے ہو گا نہ کہ انسانوں کی طرف سے۔ اس کی بنیاد پر یہ کہنا صحیح ہو گا کہ موجودہ زمانہ میں ہمارے تمام مسائل و مشکل اگرچہ بظاہر انسانوں کی طرف سے ہیں مگر حقیقتاً وہ اللہ کی طرف سے ہیں۔ یہ یأس خداوندی کا ظہور ہے جس پر مسلمانوں کے اندر تفرقہ پیدا ہونا چاہئے۔ مگر موجودہ زمانہ کے مسلم رہنماؤں نے اس کو مخالفین کا ظلم بتایا۔ اس بنا پر ان کے اندر تفرقہ کے بجائے احتجاج کا مزاج پیدا ہو گیا۔ ۱۹ ستمبر ۱۹۹۲ مولانا انیس لقمان ندوی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ مسلم مصنفین میں میرے سب سے زیادہ پسندیدہ مصنف ابن جوزی ہیں۔ ذاتی طور پر میں ان کو ابن تیمیہ، ابن قیم، شاہ ولی اللہ وغیرہ سے زیادہ پسند کرتا ہوں۔ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۲ ایک صاحب نے کہا کہ ابن تیمیہ نے سیبویہ کی ستر غلطیاں نکالی ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ نہیں کہئے کہ ابن تیمیہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ سیبویہ کے یہاں ستر غلطیاں پائی جاتی ہیں۔ کیوں کہ اگر سیبویہ کو جواب دینے کا موقع ملے تو وہ کہے گا کہ ابن تیمیہ نے جن چیزوں کو غلطی کہا ہے وہ سرے سے غلطی ہی نہیں۔ ۲۱ ستمبر ۱۹۹۲ مولانا انیس لقمان ندوی سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اگر ایسا ہو کہ حق کی ایک دعوت اٹھے اور اہل باطل اس کو مٹانے کے درپے ہو جائیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دعوت باطل پرستوں کے لئے خطرہ کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ کوئی دعوت جب اس نوبت کو پہنچ جائے تو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader