ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 304
By Maulana Wahiduddin Khan
وہ جس طرح پرستاران باطل کے لئے تشویش کا باعث ہوتی ہے ، ٹھیک اسی طرح وہ خود خدا کی بھی خصوصی عنایت کا مستحق بن جاتی ہے۔ چنانچہ اہل باطل جتنی طاقت کے ساتھ اس دعوت کو مٹانا چاہتے ہیں اس سے زیادہ طاقت کے ساتھ خود اس دعوت کی مدد پر آ جاتا ہے۔ گویا کہ اب معاملہ انسان اور انسان کے درمیان نہیں رہتا بلکہ وہ انسان اور خدا کے درمیان کا سلسلہ بن جاتا ہے۔ ایسی حالت میں یہ ناممکن ہو جاتا ہے کہ کوئی باطل گروہ حق کی دعوت کو مٹانے میں کامیاب ہو جائے۔ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۲ مسٹر سراج پر اچا جامع مسجد دہلی کے علاقہ میں رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ ۱۰ سال پہلے یہ حال تھا کہ امام بخاری مسلمانوں کے امام بنے ہوئے تھے۔ ان کی پرجوش تقریر نے مسلمانوں کے اندر ان کو بہت بڑا مقام دے دیا تھا۔ مگر اب مسلمانوں کے درمیان وہ سخت غیر مقبول ہو گئے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ جامع مسجد کے پاس کچھ لوگوں سے امام صاحب کے بارہ میں گفتگو کر رہے تھے۔ ایک نوجوان نے کہا کہ آپ ان کو امام کیوں کہتے ہیں۔ ان کو آپ پیش امام کہئے ۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ہندوستان میں جذباتی قیادت کا دور تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔ اب مستقبل قریب میں انشاء اللہ حقیقت پسندی اور تعمیری مزاج کا دور دورہ ہوگا۔ اس دن کے آنے میں اب زیادہ دیر نہیں۔ ۲۳ ستمبر ۱۹۹۲ علم النفس کی تحقیقات بتاتی ہیں کہ انسان کا دماغ لامحدود صلاحیتوں کا خزانہ ہے۔ مگر موجودہ دنیا میں یہ دماغ استعمال ہوئے بغیر ختم ہو جاتا ہے۔ آدمی ایک لذیذ چیز سے محفوظ ہونا چاہتا ہے۔ مگر تھوڑی دیر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جسمانی طاقت جواب دے چکی ہے۔ وہ بے حساب علم حاصل کرنا چاہتا ہے مگر اس کی طاقت اس میں مانع بن جاتی ہے کہ وہ زیادہ مطالعہ کر سکے۔ وہ کامل آزادی چاہتا ہے مگر دنیا میں دوسرے لوگوں کا وجود اس کو مجبور کرتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کو صرف محدود طور پر استعمال کرے ۔ وغیرہ۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader