Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 32

By Maulana Wahiduddin Khan

کے اندر سے اکڑا اور انانیت کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ وہ اعتراف کرنے والا انسان بن کہ ظاہر ہوتا ہے۔ اس کی پوری زندگی پر humility کی صفت چھا جاتی ہے۔ سجدہ کے اعتبار سے مومن صرف خدا کا شکر گزار ہوتا ہے۔ مگر اخلاق کے اعتبار سے وہ ہر انسان کے سامنے تواضع کی روش اختیار کرنے والا انسان بن جاتا ہے۔ ۱۸ فروری ۱۹۹۱ مولا نا محمد علی جو ہر ایک پر جوش سیاست داں تھے۔ وہ ادیب اور مقرر اور شاعر بھی تھے۔ ان کا یہ شعر سلمان بہت جوش و خروش کے ساتھ پڑھتے ہیں: توحید تو یہ ہے کہ خدا حشر میں کہہ دے یہ بندہ دو عالم سے خفا میرے لئے ہے میرے نزدیک یہ بالکل لغو شعر ہے۔ یہ تو جید نہیں ہے، وہ صرف بے معنی شاعری ہے۔" دو عالم" میں انسانی دنیا کے ساتھ فرشتوں کی دنیا بھی شامل ہے۔ تو یہ کیا کوئی توحید کی بات ہے کہ آدمی انسانوں کے ساتھ فرشتوں سے بھی خفا ہوجائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ توحید سارے عالم کے لئے محبت کا مزاج بتاتی ہے، نہ کہ سارے عالم سے خفا ہونے کا۔ تمام پیغمبروں نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہارے لئے ناصح اور امین ہوں میں تمھاری ہدایت اور نجات کا حریص ہوں۔ کسی پیغمبر نے یہ نہیں کہا کہ میں سارے عالم سے خفا ہوں۔ زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حشر میں کسی شخص کے بارہ میں یہ کہا جائے کہ اس نے اللہ کی خاطر اپنے دشمنوں سے محبت کی۔ وہ لوگوں کی ایذارسانی کے باوجود لوگوں کا خیر خواہ بنا۔ لوگوں کی اشتعال انگیزی کے باوجود وہ ان سے خفا نہیں ہوا۔ بلکہ ان کی ہدایت کے لئے دعا کرتا رہا۔ ۱۹ فروری ۱۹۹۱ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشار کی نماز کے لئے مسجد میں آئے تو دیکھا کہ لوگ نماز کے انتظار میں مسجد کے اندر بیٹھے ہوئے ہیں۔ آپ نے فرمایا : انکم لن تزالوا فی صلاة ما انتظرتم الصلاۃ (تم لوگ جب نماز کے انتظار میں ہوتے ہو تو تم نماز ہی میں ہوتے ہو۔) اس کی تشریح کرتے ہوئے حسن بصری نے کہا : ان الناس لا يزالون في خير ما انتظروا الخير (لوگ جب کسی بھلائی کا انتظار کرتے ہیں تو اس وقت بھی وہ بھلائی میں ہوتے ہیں) جامع الاصول

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page