ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
فی احادیث الرسول ۲۴۶/۵ حدیث سے ثابت ہے کہ تمام اعمال کا دار و مدار نیت پر ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دین میں اصل اہمیت نفسیاتی حالت کی ہے۔ جب آدمی اس انتظار میں ہو کہ خیر کا موقع آئے تو وہ خیر کا عمل کرے، تو وہ ثابت کرتا ہے کہ وہ دل سے عمل خیر کا طالب ہے۔ اس کی نفسیات میں خیر کا شوق داخل ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طالب خیر کو بھی عامل خیر کے خانہ میں لکھ دیا جاتا ہے۔ ۲۰ فروری ۱۹۹۱ اپنی پوری عمر میں میرا سابقہ جن مسلمانوں کے ساتھ پیش آیا، ان میں سے کوئی بھی شخص ایسا نہ تھا جو اپنے خلاف مزاج بات سننے کے وقت objective رہے۔ ہر آدمی اس وقت سنجیدہ تھا جب کہ بات اس کے مزاج کے موافق ہو۔ جیسے ہی بات اس کے مزاج کے غیر موافق ہوئی، وہ غیر سنجیدہ ہو گیا۔ اس مزاج کا سب سے زیادہ اظہار اس وقت ہو اہ جب کہ کوئی ایسی تنقید کی گئی ہو جس کی زد آدمی کی اپنی ذات پر پڑرہی ہو۔ ایسی تنقید کے وقت ہر آدمی فوراً مشتعل ہو گیا۔ وہ عدل پر قائم نہ رہ سکا۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں میں وہ چیز باقی نہیں رہی ہے جس کو تقویٰ کہا جاتا ہے۔ مذہبی طبقہ میں لباس اور وضع قطع وغیرہ میں تقویٰ کے خود ساختہ مظاہر تو ضرور پائے جاتے ہیں۔ مگر مجھے شک ہے کہ لوگوں کے اندر حقیقی تقویٰ موجود ہے۔ میری فہم کے مطابق، ایک متقی انسان ذاتی تنقید پر بھرنے والا نہیں ہو سکتا۔ ۲۱ فروری ۱۹۹۱ میرا تجربہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کی پٹڑی دو بار نہیں بدلتا۔ مثلاً ایک شخص جو ایک باجماعت اسلامی سے یا کسی اور جماعت سے متاثر ہوگیا، وہ دوبارہ کسی اور تحریک سے اس طرح متاثر نہیں ہو سکتا کہ وہ پہلے کو چھوڑ کر پوری طرح دوسرے کو اختیار کرلے۔ ایسا کرنے کے لئے بہت زیادہ باشعور اور بہت زیادہ انقلابی انسان درکار ہوتے ہیں۔ اور ایسے انسان ہمیشہ بہت کم پائے گئے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader