ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
ہندوستان ٹائمز (۲۲ فروری) میں ایک دلچسپ خبر ہے۔ قاہرہ کی ڈیٹ لائن کے ساتھ چھپنے والی اس خبر کا عنوان ہے ــ ڈیمو کریسی ایک عربی لفظ ہے : Democracy an Arabic word رائٹر کی اس خبر میں بتایا گیا ہے کہ لیبیا کے فوجی صدر رکن نل صمرت زدافی نے قاہرہ میں ایک اجتماع کو خطاب کیا۔ اس میں تقریبأ ایک سو مصری شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ڈیموکریسی ایک یونانی لفظ ہے۔ یہ لغو بات ہے۔ یہ ایک عربی لفظ ہے۔ اور اس کا مطلب ہے مسلسل کرسی پر بیٹھنا۔ انھوں نے کہا کہ ڈیموکریسی دو عربی لفظ کا مرکب ہے۔ دیمومة اور کراسی۔ دیمومہ کے معنی ہیں ہمیشگی اور کراسی کا لفظ کرسی کی جمع ہے۔ یہ کوئی دلیل نہیں بلکہ ایک لطیفہ ہے۔ ۲۳ فروری ۱۹۹۱ ایک صاحب نئی دکان کھول رہے تھے۔ انھوں نے مجھ سے مشورہ مانگا۔ میں نے کہا کہ تجارت نام ہے محنت کا۔ دکان آدمی کے لئے تجارتی بیٹھک کی جگہ نہیں۔ دکان آدمی کے لئے تجارتی محنت کی جگہ ہے۔ اگر آپ اس راز کو سمجھ لیں تو انشا اللہ آپ ضرور اپنی تجارت میں کامیاب ہو کر رہیں گے۔ ۲۴ فروری ۱۹۹۱ میرے بارہ میں ہر جگہ یہ مشہور کیا جا رہا ہے کہ میں نے لیبیا کے صدر صمرت زدافی کی کتاب الا خفر کا اردو ترجمہ کیا ہے۔ اس سلسلہ میں ایک صاحب سے گفت گو ہوئی۔ میں نے کہا کہ یہ بالکل جھوٹی بات ہے۔ اس کے بعد میں نے انھیں ایک واقعہ سنایا۔ برطانی حکومت کے دور میں وائسرائے کے سامنے ایک خط پیش کیا گیا۔ اس پر محمد علی کا دستخط تھا۔ یہ خط امیر کابل کے نام تھا۔ خط میں افغانی امیر سے کہا گیا تھا کہ آپ اپنی فوجیں لے کر ہندوستان پر حملہ کر دیجئے۔ ہم اندر سے بغاو ت کر دیں گے۔ اس کے بعد انگریزوں کو بھاگنا پڑے گا۔ اور ملک آزاد ہو جائے گا۔ اس خط کے مضمون سے مولانا محمد علی جوہر کی بغاوت ثابت ہوتی تھی۔ اس کو وائسرائے کی کونسل میں غور کے لئے پیش کیا گیا۔ کونسل کی اس میٹنگ میں جنرل ڈائر بھی تھا جو اپنی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader