Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

سفاکی کے لئے مشہور ہے۔ جنرل ڈائر نے اس خط کو پڑھا۔ اس کے بعد اس نے اس خط کو پھینک دیا۔ اس نے کہا کہ اس خط کی زبان نہایت معمولی ہے۔ وہ محمد علی کی زبان نہیں ہو سکتی۔ یہ تو ہمارے کسی جونیئر افسر کا لکھا ہوا خط ہے۔ جنرل ڈائر کی اس بات پر وہ خط رد کر دیا گیا۔ میں نے کہا کہ ہمارے مخالفین کے اندر جنرل ڈائر کے بہت در کر دار بھی نہیں۔ ورنہ وہ قذانی کے ترجمہ کو دیکھ کر صرف زبان کی بنیاد پر اسے رد کر دیتے اور کہتے کہ یہ تو وحید الدین خاں کی زبان ہی نہیں۔ کیوں کہ یہ واقعہ ہے کہ اس کی زبان میں اور میری زبان میں بہت زیادہ فرق ہے۔ ۲۵ فروری ۱۹۹۱ء کشمیر کے کچھ لوگ آئے اور پوچھا کہ کشمیر کے بارہ میں آپ کی رائے کیا ہے۔ میں نے کہا کہ میری رائے وہی ہے جس کو میں تقریباً ۲۵ سال سے کہتارہتا ہوں۔ میں نے انھیں الجمعیتہ ویکلی (۴م جون ۱۹۶۸ء، صفحہ ۳) دکھایا۔ میں نے کہا کہ کشمیر کے نوجوان خیالی تصور کے پیچھے دوڑ رہے ہیں۔ انھیں عملی حقیقت کو سمجھنا چاہئے۔ عملی اعتبار سے آپ کے لئے صرف یہ ممکن ہے کہ ہندوستان کے الحاق کو بطور واقعہ مان لیں۔ اور دستور ہند کی دفعہ ۳۷۰ کے تحت اپنی زندگی کی تعمیر کریں۔ آج اگر آپ نے ایسا کیا تو آئندہ اس کا موقع بھی نکل جائے گا۔ اور دفعہ ۳۷۰ کے تحت ملنے والے خصوصی حقوق سے بھی آپ محروم ہو جائیں گے۔ میں نے کہا کہ آپ لوگوں کو ہتھیار رکھ دینا چاہئے اور نئی دہلی سے صرف یہ مانگ کرنا چاہئے کہ دفعہ ۳۷۰ کولیٹر اور اسپرٹ کے ساتھ پوری طرح نافذ کیا جائے۔ آپ لوگوں کی مسلح جدوجہد صرف خودکشی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ ۲۶ فروری ۱۹۹۱ء انسان امتحان کے لئے آزاد ہے گمراہ نتیجہ کے لئے آزاد نہیں۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ بڑھاپے کو روک سکے۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ موت کو روک سکے۔ کوئی انسان اس پر قادر نہیں کہ وہ اپنےا بُری انجام کو روک سکے۔ یہ انسان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے، مگر کوئی انسان نہیں جو اس مسئلہ پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرتا ہو۔ آج صبح بارجہ میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page