Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 36

By Maulana Wahiduddin Khan

ٹہلتے ہوئے یہ الفاظ میری زبان پر آئے۔ خلیج کا بحران پیدا ہونے کے بعد پچھلے کئی مہینوں سے میں نہایت تفصیل کے ساتھ اس کا مطالعہ کرتا رہا ہوں۔ اس مطالعہ کا ایک نتیجہ وہ ہے جو "خلیج ڈائری" کے نام سے "الرسالہ نمبر (مئی ۱۹۹۱) کے طور پر شائع کیا جا رہا ہے۔ اس دوران میں ہر روز بہت سے اخبار اور رسالے پڑھتا رہا ہوں۔ عربی، اردو، انگریزی میں کثیر تعداد میں خبریں اور رپورٹس اور مضامین کا مطالعہ کیا ہے۔ اس پوری مدت میں ہزاروں تحریریں دیکھی ہیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ ان تمام تحریروں میں کوئی ایک بھی تحریر ایسی نہیں ملی جس میں خلیجی بحران سے کوئی مفید سبق نکالا گیا ہو۔ تمام تحریریں یا معلوماتی تھیں یا پھر کسی ایک کی حمایت اور دوسرے کی مذمت ۔ ایسی حالت میں کیسے ممکن ہے کہ لوگ واقعات سے سبق سیکھیں۔ واقعات ان کے لئے تربیت اور تنزکیہ کا ذریعہ بن جائیں۔ ۲۸ فروری ۱۹۹۱ ماہنامہ "الارشاد" (اعظم گڑھ) کے شمارہ فروری ۱۹۹۱ کا اداریہ (رشحات) خلیج کے مسئلے پر ہے۔ ایڈیٹر صاحب عربوں کی شکایت کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "عالم اسلام میں کوئی بڑا سے بڑا حادثہ پیش آجائے مگر وہاں کے عوام و خواص میں کوئی پرشور تاثر دکھائی نہیں دیتا۔ بس حکومت یا حکومت کے کچھ ادارے اس پر اظہار افسوس کر دینا یا کچھ مالی مدد کر دین کافی سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے عالم اسلام کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو پا رہا ہے۔" (صفحہ ۷) یہ موجودہ مسلمانوں کی حالت کی نہایت صحیح ترجمانی ہے۔ آجکل کے مسلمان "پرشور تاثر" ظاہر کرنے کو مسئلہ کا حل سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ پرشور تاثر صرف ایک سطحی رد عمل ہے، اس کا مسئلہ کے حل سے کوئی تعلق نہیں۔ اصل بات یہ نہیں ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے مسائل پر پرشور تاثر کا اظہار نہیں ہوتا۔ اصل بات یہ ہے کہ بار بار پرشور تاثر کے اظہار کے باوجود مسلمانوں کا کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکا۔ بابری مسجد کی تحریک وجو دھیا کے مسئلہ پر پورے معنوں میں ایک پرشور تاثر تھا مگر اس نے ایک فیصد اصل مسئلہ کو حل نہیں کیا۔ خلیج کا موجودہ بحران بھی فلسطین

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page