ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 37
By Maulana Wahiduddin Khan
کے مسئلے پر ایک پرشور تماثر کا مظاہرہ تھا ، مگر اس نے مسئلہ کو حل کرنے میں کسی بھی قسم کی مدد نہیں کی۔ وغیرہ یکم مارچ 1991 بنارس سے ایک عربی ماہنامہ نکلتا ہے۔ اس کا نام صوت الامۃ ہے۔ اس کے شمارہ جب 1411ھ (فروری 1991ء) میں الجھاد فی سبیل اللہ کے عنوان سے 14 صفحات کا ایک مضمون چھپا ہے۔ اس میں تفصیل کے ساتھ جہاد کی اہمیت اور فضیلت بیان کی گئی ہے۔ آخر میں مضمون نگار لکھتے ہیں : الی متی هذالهوان ایھا الرجل المومن ۔ عش عزیزا ومت عزیزاً وحتى نقتاتل اے مرد مومن ، یہ ذلت و رسوائی کب تک ۔ عزت کے ساتھ جیو اور عزت کے ساتھ مرو ۔ اور ہمارے ساتھ آؤ کہ ہم مل کر جنگ کریں۔ صفحہ 40 جہاد اللہ کے لئے ہوتا ہے نہ کہ مسلمانوں کی قومی عزت کے لئے۔ سارے قرآن میں کوئی بھی آیت نہیں ہے جس میں بتایا گیا ہو کہ جہاد کا مقصد قومی عزت حاصل کرنا ہے۔ 2 مارچ 1991 آج شب برات ہے۔ عشاء کے بعد میں اپنے مطالعہ کے کمرہ میں بیٹھا ہوا ہوں۔ باہر بستی نظام الدین سے بار بار آوازیں آ رہی ہیں۔ مسلمان شب برات کے پٹاخے چھوڑ رہے ہیں۔ ہندوستان کے مسلم علماء کا کہنا ہے کہ اس ملک میں ہمارے لئے سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ ہماری اسلامی شناخت مٹائی جا رہی ہے۔ جلسو اور بیانات کی صورت میں وہ اس کے خلاف مسلسل بولتے رہتے ہیں۔ مگر یہی مسلم علما شب برات کے پٹاخوں اور اس قسم کی دوسری بدعات پر خاموش ہیں۔ ان کے نزدیک اس سے مسلمانوں کی شناخت متاثر نہیں ہوتی۔ پٹاخہ بازی واضح طور پر ہندوؤں کی نقل ہے۔ اس کے باوجود اس سے مسلمانوں کی شناخت کو کوئی خطرہ نہیں۔ ٹائمس آف انڈیا (۳ مارچ) نے جانسن (G.H. Jansen) مقیم نکو سیا کا ایک جائزہ خلیج کی جنگ کے بارے میں شائع کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ خلیجی بحران کے زمانہ میں تقریبا پوری دنیا کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader