ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 39
By Maulana Wahiduddin Khan
اس معاملہ میں مسلمانوں نے صرف رد عمل کا طریقہ اختیار کیا۔ وہ مستشرقین کے کام میں کچھ خلاف اسلام باتیں تلاش کر کے ان کے خلاف احتجاج کرتے رہے۔ حالاں کہ اصل کام یہ تھا کہ غالب قوم کے جذبہ کو استعمال کیا جائے کہ وہ مغلوب قوم کے مذہب اور کلچر کو جاننا چاہتی ہے۔ اگر مسلمان اس راز کو جانتے تو مغربی اقوام جو صرف نفرت کا موضوع بنیں، ان کے لیے مدعو بن حب باتیں وہ ان کے سامنے اسلام کو پیش کر کے سارے معاملے کو تبلیغ اسلام کا معاملہ بنا دیتے۔ ۵ مارچ ۱۹۹۱ء خلیج کی جنگ میں امریکہ کو شاندار فتح حاصل ہوئی اور عراق کے حصہ میں صرف رسواکن شکست آئی۔ ہندوستان ٹائیمس (۴ مارچ) میں ایک امریکی ماہر جنگ کا تاثر نقل کیا گیا ہے۔ اس نے کہا کہ عراقی ہمارے لیے مددگار دشمن (cooperative enemy) ثابت ہوئے۔ انھوں نے اپنے غیر منصوبہ بند اور بے سوچے سمجھے اقدامات کے ذریعہ فتح کو ہمارے لیے بے حد آسان بنا دیا۔ بے وقوف دشمن اپنے حریف کے لئے مددگار دشمن ہے۔ ایسا دشمن اپنی نادانیوں کے ذریعہ اپنے حریف کو ایسی فتح کا موقع دیدیتا ہے جس کی امید وہ عام حالات میں نہیں کر سکتا تھا۔ عراق کے صدر صدام حسین اور اسی طرح موجودہ زمانہ کے دوسرے تمام انقلابی مسلم رہنما، جن کو ان کے معتقدین بڑے بڑے القاب دئے ہوئے ہیں، وہ اسی قسم کے نادان مجاہدِ اسلام ثابت ہوئے ہیں۔ ۶ مارچ ۱۹۹۱ء سورہ شعراء، رکوع ۲ ــــ موسیٰ جب بچہ تھے تو فرعون نے آپ کو دریائے نکالا اور عزت کے ساتھ آپ کو اپنے محل میں رکھا۔ مگر موسیٰ جب بڑے ہو گئے اور نبی کی حیثیت سے اللہ کا پیغام لے کر اس کے دربار میں گئے تو فرعون نے آپ کی تحقیر کی اور آپ کو نظر انداز کر دیا۔ ایک ہی شخص کے بارہ میں ہاز عمل کے اس فرق کا سبب کیا تھا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ موسیٰ جب بچہ تھے تو وہ فرعون کے لئے ایک بے ضرر انسان تھے۔ مگر جب وہ پیغمبرانہ دعوت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader