ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 40
By Maulana Wahiduddin Khan
لے کر فرعون کے دربار میں گئے تو اس وقت آپ کی حیثیت ایک نات کی ہو چکی تھی۔ آپ فرعون کے دین شرک کو غلط بتا رہے تھے اور اس کے بجائے اس کو دین توحید اختیار کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔ یہ بات فرعون کے مزعومات کے خلاف تھی۔ اور اپنے خلاف کسی بات کو سننا بلاشبہ انسان کے لئے سب سے زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔ قبطی کے قتل کی بات پر حضرت موسیٰ نے فرعون کو جو جواب دیا، اس کا مطلب یہ تھا کہ مجھ کو میرے ماضی کی حیثیت سے نہ دیکھو بلکہ مجھ کو میرے حال کی حیثیت سے دیکھو۔ پچھلے واقعہ کو چھوڑ کر آج کی بنیاد پر فیصلہ کرو۔ آپ کے اس جواب سے یہ اہم اصول ملتا ہے کہ کسی سے معاملہ کرنے کے وقت ہم کو چاہئے کہ ہم آدمی کے بارہ میں اس کے آج کے اعتبار سے رائے قائم کریں نہ کہ گزرے ہوئے کل کے اعتبار سے۔ مارچ ۱۹۹۱ء ہندوستان ٹائمز (۵ مارچ ۱۹۹۱ء) میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ اس کا عنوان ہے صدام حسین کی حمایت نے فلسطین کی تحریک آزادی کی قسمت پر مہر لگادی: Supporting to Saddam seals PLO's fate اس میں بتایا گیا ہے کہ کویت پر صدام حسین کا قبضہ اور خلیج کی جنگ کے معاملہ میں چونکہ یاسر عرفات نے صدام حسین کی طرف داری کی۔ اس کی وجہ سے سعودی عرب ، کویت اور عرب امارات وغیرہ کے حکمران یاسر عرفات سے سخت غصہ ہو گئے ہیں۔ انھوں نے یاسر عرفات کی مالی مدد بالکل بند کر دی ہے۔ اس سے پہلے فلسطین کی تحریک آزادی کو خلیجی ریاستوں سے ہر مہینہ تقریباً ۴۳ ملین ڈالر کا تعاون ملتا تھا : Before Mr. Arafat gambled on Mr Hussein the PLO was getting some 43 million dollars a month from the Gulf states. یاسر عرفات پرائیویٹ جیٹ پر سفر کرتے تھے اور یہ سب خلیج کی عرب ریاستوں کی مدد کی بنیاد پر تھا۔ مگر خلیج کے بحران میں انھوں نے صدام حسین کا ساتھ دیا۔ حالانکہ صدام حسین نے فرض الفاظ کے سوا فلسطین کی تحریک کی کوئی اور مدد نہیں کی۔ مسلم قائدین کے ذہنی دیوالیہ پن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader