ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 41
By Maulana Wahiduddin Khan
کی یہ کیسی عجیب مثال ہے۔ فروری ۱۹۹۱ کے آخر میں امریکی اخبار (The Press and America) کے ایڈیٹاریکل ایمری (Michael Emery) نے اردن کے شاہ حسین سے ملاقات کی۔ اور خلیج کے مسئلہ پر ان کا انٹرویو لیا۔ یہ انٹرویو ہندوستان ٹائمس (۵ مارچ ۱۹۹۱) میں نقل کیا گیا ہے۔ شاہ حسین نے اپنے تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ صدام حسین نے کویت پر قبضہ بطور دباؤ (source of pressure) کیا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ اس طرح امریکہ پر دباؤ ڈال کر فلسطین کے مسئلہ کو حل کریں اور اس کے بعد کویت کو خالی کر دیں۔ صدام حسین نے کویت پر قبضہ کرنے کے لئے کویت پر حملہ نہیں کیا بلکہ امریکہ پر دباؤ ڈالنے کے لئے اس پر حملہ کیا۔ اگر یہ صحیح ہو تو میں کہوں گا کہ یہ ایک طفلانہ سیاست تھی۔ یہ گو یا کلیسیا میں گھوڑا ہانکنا تھا۔ صدام حسین اگر مدبر ہوتے تو وہ پیشگی طور پر جانتے کہ جس چیز کو وہ امریکہ پر دباؤ کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں اس کو امریکہ خود عراق پر حملہ کے لئے استعمال کرے گا۔ ۹ مارچ ۱۹۹۱ ایک صاحب نے کہا کہ میں طالب علمی کے زمانہ میں والی بال کھیلا کرتا تھا۔ والی بال کے کھیل میں ایک اسمیشر (smasher) ہوتا ہے اور ایک بوسٹر (booster) ۔ انھوں نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ ہر لڑکا اسمیشر بننا چاہتا ہے۔ میں نے غور کیا تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اسمیشر فوراً نمایاں ہو جاتا ہے اور بوسٹر غیر نمایاں رہتا ہے۔ حالانکہ بوسٹر اگر بال نہ دے تو اسمیشر کیسے اس کو مارے۔ یہی معاملہ زندگی کے دوسرے اجتماعی معاملات کا ہے۔ ہر اجتماعی معاملہ میں دونوں قسم کے آدمیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ مگر "بوسٹر بننے کا شوق کسی میں نہیں ہوتا۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ بیک گراؤنڈ میں رہتا ہے۔ اس کے برعکس ہر آدمی اسمیشر بننا چاہتا ہے، کیوں کہ اس کا نام زیادہ ہوتا ہے، وہ لوگوں کو زیادہ دکھائی دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader