Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 42

By Maulana Wahiduddin Khan

کسی کا قول ہے کہ ــــ۔ اگر اور سب چیز کھوئی جا چکی ہو تو تم اپنے معیار کو نیچا کر لو: If all else fails, lower your standards. یعنی اگر تمہارے پاس کار نہ رہے۔ تمھاری سائیکل بھی ٹوٹ جائے تو تم پیدل چلنا شروع کر دو۔ اسی طرح جب تم دیکھو کہ تمہارے وسائل ضائع ہو گئے ہیں، تو تم ضائع شدہ وسائل کا غم نہ کرو بلکہ اب بھی جو حاصل ہے، اس کا استعمال شروع کر دو۔ ایک شخص اگر اپنا سرایا کھو دے، تب بھی اس کے ہاتھ پاؤں باقی رہتے ہیں۔ وہ اپنے ہاتھ پاؤں سے عمل کر کے دوبارہ اپنے لئے ایک نئی زندگی بنا سکتا ہے۔ ۱۱ مارچ ۱۹۹۱ دین کا انکار کرنے سے کفر اور الحاد جیسی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی طرح برائی کی ایک اور قسم ہے۔ یہ وہ قسم ہے جو دین کا اقرار کرنے کے باوجود پیدا ہوتی ہے۔ یہ برائی ہے ــــ۔ غیر دین کو دین کی اصطلاحوں میں بیان کرنا۔ غیر دین کو دین کا نام دینا ہی تمام دینی خرابیوں کا سبب ہے۔ یہ برائی ہر مذہبی حلقہ میں پائی جاتی ہے۔ سیاست کو مذہبی عقیدہ بنانے سے شیعت پیدا ہوئی۔ اکابر پرستی کو مذہب بنانے سے تصوف ظہور میں آیا۔ رد عمل کے تحت دین کی تشریح کر لینے سے دورِ اوّل میں خوارج اور موجودہ زمانہ میں الاخوان المسلمون اور جماعت اسلامی جیسی منحرف تحریکیں پیدا ہوئیں۔ نیز ۱۲ مارچ ۱۹۹۱ حیدر آباد کے ایک اردو اخبار میں، جس پر یکم مارچ ۱۹۹۱ کی تاریخ درج ہے، صفحہ اول کی رپورٹ کی سرخی یہ تھی: "عراق اور صدام حسین کا حسینی لشکر سر جھکا نہیں سکتا، البتہ سر کٹا سکتا ہے۔" ہندوستان کے اردو اخبارات اس قسم کی پرجوش خبروں کے ساتھ مسلمانوں میں اپنا اخبار فروخت کر رہے تھے۔ دوسری طرف صدام حسین کو جنگ نے اس مقام پر پہنچا دیا تھا کہ وہ امریکہ کی ہر شرط مان کر یک طرفہ طور پر جنگ بندی پر راضی ہو جائیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page