ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے درمیان جو بڑے بڑے رہنما اٹھے، ان کو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی۔ مگر ان کے اقدامات سراسر ناکامی پر ختم ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی تشخیص بنیادی طور پر غلط تھی۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ مسلمانوں کے زوال کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے سیاست کھودی ہے۔ حالاں کہ ان کے زوال کا اصل سبب یہ تھا کہ انہوں نے رہبانیت کھودی تھی۔ موجودہ زمانہ میں احیاء ملت کے لئے احیاء رہبانیت کی ضرورت تھی نہ کہ احیاء سیاست کی۔ ان رہنماؤں کا نشانہ غلط تھا ، اس لئے ان کی کوششیں بھی لا حاصل ہو کر رہ گئیں۔ صرف یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی صحیح بات کہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ وہ صحیح بات میں غلط بات کو نہ ملائے۔ ورنہ صحیح ذہن نہیں ہو سکتا۔ میں ابن تیمیہ کی کتاب الجواب الصحيح لمن بدل دین المسیح کو پڑھ رہا تھا۔ اس میں اس قسم کی بہت سی مثالیں سامنے آئیں: مثلاً ایک مقام پر ایک عیسائی کے جواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کی عمومیت ثابت کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں تک ایسی باتیں پہنچائیں جو دوسرے انبیاء نہیں پہنچا سکے تھے ، اس اندیشہ کی بنا پر لوگ انھیں قتل کر دیں گے (والقی الی الناس مالم یمکن غیره من الانبیاء القاءه خوفا ان یقتلوه) 14/3 یہ بلاشبہ ایک بے بنیاد بات ہے اور قرآن کے سراسر خلاف ہے۔ پیغمبر اسلام کی رسالت کی عمومیت بذات خود واقعہ ہے۔ مگر یہ بات واقعہ کے خلاف ہے کہ دوسرے پیغمبروں نے قوموں کے ڈر سے ان کو خدا کی طرف سے ملا ہوا پیغام نہیں پہنچایا۔ حدیث میں روزہ کے سلسلہ میں نیت اور سحری کی بہت تاکید آئی ہے۔ اس حکم کا ایک دینی پہلو ہے۔ اس کے علاوہ اس کا ایک اور پہلو بھی ہے۔ آدمی جب صبح کو فجر سے پہلے اٹھتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader