Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 44

By Maulana Wahiduddin Khan

وہ کہتا ہے کہ میں آنے والے دن کے روزہ کی نیت کرتا ہوں۔ وہ وقت شروع ہونے سے پہلے سحری کھاتا ہے۔ تو اس قسم کے اعمال سے گویا وہ اپنے دماغی کمپیوٹر کی programming کرتا ہے۔ اس کے دماغ کا کمپیوٹر پورے جسم کے نظام کو یہ حکم دیتا ہے کہ وہ اگلی شام تک اپنے کو روزہ کی حالت میں سمجھیں۔ اس کی وجہ سے روزہ کی بھوک پیاس کو برداشت کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ عام حالت میں اگر آدمی بھوکا رہے تو سخت تکلیف محسوس کرتا ہے۔ مگر روزہ میں اتنی تکلیف نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ یہی دماغ کے کمپیوٹر کی پروگرامنگ ہے جو سحری کے وقت کی جاتی ہے۔ ۱۶ مارچ ۱۹۹۱ سرسی وی رمن (۱۹۷۰ - ۱۸۸۸) انڈیا کے ایک مشہور سائنس داں تھے۔ ان کا خیال تھا کہ خارجی ساز و سامان سے زیادہ انسانی دماغ کی اہمیت ہے۔ ان کے بنگلور کے سائنسی ادارہ کے ایک طالب علم نے ان سے شکایت کی کہ اس کی لیپورٹری میں صرف ایک کلوواٹ کا ایک لیمپ ہے، جب کہ باہر کے ملکوں میں میرے جیسے طالب علم کے یہاں دس کلوواٹ کا لیمپ ہوتا ہے۔ رمن نے جواب دیا کہ تردد نہ کرو، مسئلہ کے لئے اپنے اندر دس کلوواٹ کا دماغ رکھ لو۔ Don't worry. Put a 10 KW brain to the problem. ۱۷ مارچ ۱۹۹۱ آج شعبان ۱۴۱۱ھ کی آخری تاریخ تھی۔ شام کو رمضان کا چاند صاف دکھائی دیا۔ تمام لوگوں نے اس کو آسمان پر ہلکا چمکتا ہوا دیکھا۔ میں نے چاند کو دیکھا تو مجھے خیال آیا کہ چاند گویا ایک خدائی نشان ہے جو آسمان میں ظاہر ہو کر بتا رہا ہے کہ آج سے تمہاری زندگی کا نیا دور شروع ہو گیا۔ اب تم کو مباحات اور ممنوعات کے نئے معیار کے تحت اپنے روز و شب کو گزارنا ہے۔ تاہم یہ صرف ہلالِ رمضان کی بات نہیں۔ دنیا کی ہر چیز خدا کی نشانی ہے، اور ہر چیز انسان کو ایک نئے سبق کی یاد دہانی کرا رہی ہے۔ آدمی کا احساسِ ایمان زندہ ہو تو وہ جس منظر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page