ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 45
By Maulana Wahiduddin Khan
کو بھی دیکھے گا، وہ اس کو نیا ربانی پیغام سناتا ہوا نظر آئے گا۔ آج روزہ کے مہینہ کی پہلی تاریخ ہے۔ روزہ کے بارے میں سوچتے ہوئے بخاری اور مسلم کی یہ روایت یاد آئی کہ انسان جو عمل کرتا ہے اس کا اجر اس کو دس گنا سے سات سو گنا تک دیا جاتا ہے۔ مگر روزہ کا معاملہ ایک مستثنیٰ معاملہ ہے۔ روزہ کا اجر روزہ دار کو بے حساب گنا تک دیا جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ کسی عمل کے اجر کا تعین اس کی کیفی قدر و قیمت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ جس عمل میں جتنی کیفی قدر ہوتی ہے اتنا ہی اس کے عامل کو اس کا اجر ملتا ہے۔ روزہ اس اعتبار سے ایک ممتاز عبادت ہے۔ روزہ میں ارادہ اور شعور کے تحت بھوکا اور پیاسا رہنے سے روزہ دار کو اعلیٰ ایمانی تجربات حاصل ہوتے ہیں۔ وہ تقویٰ اور شکر کی اعلیٰ کیفیات سے دو چار ہو جاتا ہے۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ روزہ کے دوران اس کے قول اور عمل میں خصوصی ربانی احساسات شامل ہو جاتے ہیں۔ روزہ اس کے عمل کی روحانی قدر و قیمت کو بہت بڑھا دیتا ہے۔ روزہ اس کے ہر عمل میں کیفی (qualitative) اضافہ کا سبب بنتا ہے۔ اس طرح روزہ دار کے لئے ممکن ہو جاتا ہے کہ وہ ایسا عمل کرے جو اپنی حقیقت کے اعتبار سے اللہ کی نظر میں بے حساب گنا اجر کے قابل ہو جائے۔ ۱۹ مارچ ۱۹۹۱ عبد اللہ بن المقفع (وفات ۱۴۲ھ) عربی کا ایک ممتاز ادیب تھا۔ اس نے کلام بلیغ کی تعریف یہ کی ہے کہ جاہل آدمی جب اس کو سنے تو گمان کرے کہ میں بھی ایسا کلام کہہ سکتا ہوں (اذا سمعه الجاهل ربما ظن انه يحسن مثله) اس تعریف سے مجھے اتفاق ہے۔ کلام بلیغ کلام دقیق کا نام نہیں۔ کلام بلیغ یہ ہے کہ دقیق بات کو ایسے سادہ اور واضح الفاظ میں کہہ دیا جائے کہ آدمی اس کو سنتے ہی فوراً سمجھ لے۔ ایسے اسلوب میں بات کہنا مشکل ترین کام ہے۔ اسی لئے اس کو سہل ممتنع (السهل الممتنع) کہا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader