ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 46
By Maulana Wahiduddin Khan
جاتا ہے۔ مگر سادگی کلام کا یہ مطلب نہیں کہ اس کے معانی کو سمجھنا بھی اسی طرح آسان ہو جس طرح بظاہر اس کے الفاظ کو سمجھنا آسان معلوم ہوتا ہے۔ مثلاً الرسالیٰ کے ٹائٹل پر ایک بار لکھا گیا تھا؛ "دوسروں سے نہ لڑنے کے لئے اپنے آپ سے لڑنا پڑتا ہے : اس فقرہ کی انتہائی سادگی کے باوجود بہت سے لوگ اس کی معنوی گہرائی کو سمجھ نہ سکے۔ ۲۰ مارچ ۱۹۹۱ آج تیسرا روزہ ہے۔ روزہ گویا فاقہ کا تجربہ ہے۔ عام حالات میں صرف تھوڑے سے لوگ فاقہ کا تجربہ کر سکتے تھے۔ رمضان کے روزے فرض کر کے اس تجربہ کو عمومی بنا دیا گیا۔ مزید یہ کہ اس کو عبادت کی حیثیت دے کر اس کی اہمیت بہت زیادہ بڑھا دی گئی۔ عبادت کے پہلو نے اس فاقہ کو ایک روحانی تجربہ بنا دیا۔ رزق کی اہمیت رزق سے محرومی کے بعد سمجھ میں آتی ہے۔ یہی روزہ کی حکمت ہے۔ روزہ کے ذریعہ محرومی رزق کا تجربہ کرایا جاتا ہے تاکہ رزق کی غیر معمولی اہمیت کا احساس پیدا ہو۔ اور بندہ زیادہ بڑھے ہوئے جذبہ شکر کے ساتھ اللہ کی طرف رجوع کر سکے۔ ۲۱ مارچ ۱۹۹۱ آج کا روزہ کچھ سخت گزرا۔ بھوک اور پیاس دونوں کا سخت احساس ہوتا رہا۔ روزہ کا دن گزار کر شام کو جب افطار کر رہا تھا تو اچانک خیال آیا کہ آج میں روزہ کا دن گزار کر افطار کی شام تک پہنچا ہوں۔ اسی طرح اللہ کے مقبول بندے " روزہ کا دوڑ گزار کر انتظار کے دور میں پہنچیں گے۔ دنیا ان کے لئے روزہ کا دور ہے، اور آخرت ان کے لئے افطار کا دور۔ دنیا بہر حال میں ناخوشگواری اور مصیبت کی جگہ ہے۔ دنیا سے حزن کو جدا نہیں کیا جا سکتا۔ مومن کی متقیانہ زندگی اس کو مزید سخت بنا دیتی ہے۔ اس طرح دنیا کی زندگی انسان کے لئے روزہ کے دور کی مانند ہے۔ اور آخرت افطار کے دور کی مانند۔ مگر افطار کے اس دور میں داخلہ انہیں افراد کو ملے گا جو اللہ کی خصوصی رحمت سے اس کے مستحق قرار دئے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader