Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 47

By Maulana Wahiduddin Khan

جائیں گے۔ روزہ افطار کرتے ہوئے مجھ پر ایک لمحاتی تجربہ گزرادا۔ ایک لمحہ کے لئے ایسا محسوس ہوا جیسے میں دور روزہ سے گزرکر دور افطار میں پہنچ گیا ہوں اور اللہ کی رحمت سے جنتی افطار کی خوشی حاصل کر رہا ہوں۔ ۲۲ مارچ ۱۹۹۱ میری مخالفت کا طوفان جاری ہے۔ عجیب بات یہ کہ جن لوگوں کو سب سے زیادہ میری حمایت کرنی چاہئے تھی وہی لوگ میری مخالفت میں سب سے زیادہ آگے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے مولانا مودودی کی تعبیری غلطی کی تصحیح کرائی۔ مگر انہوں نے میری تحقیر و تلیل کی جس کے نتیجہ میں ان کی پوری جماعت میری مخالف ہوگئی۔ مولانا علی میاں کو یہ حسرت تھی کہ کوئی ہو جو جدید فکری انحراف کے جواب میں عصری اسلوب میں طاقت در لٹریچر تیار کرے۔ اس سلسلہ میں ردّہ ولا ابابکر لہا کے نام سے ایک عربی پمفلٹ شائع کیا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ کام مجھ سے کرایا۔ مگر جب یہ کام ہو چکا تو مولانا علی میاں اور ان کا پورا حلقہ میرا دشمن بن گیا۔ مولانا اسعد مدنی یہ چاہتے تھے کہ نئے ملکی حالات کے مطابق مسلمانوں ہند کی رہنمائی کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے میری زیر ادارت الجمعیة ویکلی کی صورت میں اس کا انتظام فرمایا۔ پھر جب الجمعية کثیر الاشاعت پر چہ بن کر مسلمانوں کو تعمیری رہنمائی دینے لگا تو انھوں نے الجمعیة ویکلی کو بند کر دیا۔ اور ان کا حلقہ میری کامل بربادی کے درپے ہو گیا۔ اسی طرح مولانا مجیب اللہ ندوی کا مدرسہ بے کسی کی حالت میں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعے سے اس کی ایک بڑی امداد کرائی جس سے ان کی بنیاد قائم ہوئی۔ مگر اس کے بعد وہ میری مخالفت کا جھنڈا لے کر کھڑے ہو گئے۔ مولانا ہاشم قاسمی کو اللہ تعالیٰ نے میرے ذریعہ مدرسہ سے اٹھا کر ایک بڑے مرکز کا انچارج بنا دیا۔ مگر اس کے بعد انھوں نے نہایت ذلیل انداز میں میری مخالفت کی مہم شروع کر دی۔ مولا نا محسن عثمانی ندوی کو اللہ تعالیٰ نے نازک موقع پر گراں قدر مالی امداد (بلاشرط غیر سودی قرض) میرے ذریعہ فراہم کی۔ مگر جب ان کا مسئلہ حل ہو گیا تو وہ جوش و خروش کے ساتھ میرے مخالفین کی صف میں شامل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page