Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 48

By Maulana Wahiduddin Khan

ہو گئے ۔ وغیرہ ۔ حدیث میں ہے کہ مومن دانا اور سمجھ دار ہوتا ہے : المؤمن كيس فطن (رواة الديلمي ، عن ابان عن انس) اس کا مطلب یہ نہیں کہ سمجھ داری مومن کی کوئی نسلی یا گروہی صفت ہوتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ ایک شخص جس کو مومنانہ شعور ملا ہو، اس کے اندر ایک زبردست قسم کا ذہنی انقلاب آجاتا ہے۔ اس انقلاب کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چیزوں کو (as it is) دیکھنے لگتا ہے۔ اور چیزوں کو as it is دیکھنے ہی کا دوسرا نام سمجھ داری ہے۔ ایک شخص کسی کو نفرت کی نظر سے دیکھنے لگے تو اس کی خوبیاں اس کو دکھائی نہیں دیں گی۔ ایک شخص کسی کو محبت کی نظر سے دیکھنے لگے تو اس کی برائیاں اس کی نظر سے اوجھل ہو جائیں گی۔ ایک شخص غصے کے تحت کسی معاملے میں رائے قائم کرے تو اس کی رائے اعتدال سے ہٹ جائے گی۔ اسی طرح جب بھی آدمی پر کسی کیفیت کا غلبہ ہو جائے تو وہ درست رائے قائم کرنے سے قاصر رہتا ہے۔ ایمان آدمی کو اس قسم کی محرومی سے بچاتا ہے۔ ۲۴ مارچ ۱۹۹۱ ریاض کے عربی ہفت روزہ الدعوة (۵ رمضان ۱۴۱۱ھ) میں کسی عرب بزرگ کا قول نقل کیا گیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں : نعم القوم الذين عرفوا الله في رمضان کیا ہی اچھے ہیں وہ لوگ جو رمضان کے مہینہ میں اللہ کو پہچان لیں، صفحہ ۵۰ یہ قول بہت با معنی ہے۔ روزہ کا مہینہ آدمی کے لئے احتیاج اور عجز وافتقار کے تجربہ کا مہینہ ہے۔ اور آدمی سب سے زیادہ اس وقت اپنے رب کی معرفت حاصل کرتا ہے جب کہ وہ احتیاج اور عجز وافتقار کے تجربہ سے گزر رہا ہو۔ میرے خلاف بہت سی کتابیں چھاپی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک کتاب ندوہ کے استاد مولانا عتیق احمد قاسمی کی ہے جو ۳۵۲ صفحات پر مشتمل ہے۔ مصنف نے یہ کتاب میرے پاس بھیجی تھی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page