ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 50
By Maulana Wahiduddin Khan
دار العلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ سے ایک عربی پرچہ الرائد کے نام سے نکلتا ہے۔ اس کے شمارہ ۳۰ رجب ۱۴۱۱ھ میں سعید الرحمن الأعظمی کے دستخط سے جو اداریہ چھپا ہے، اس کا جذباتی عنوان یہ ہے کہ : کاش وہ کرتا، مگر اس نے نہیں کیا لیتہ فعل ، و لكنہ لم يفعل) یہ اداریہ صدام حسین کے بارے میں ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ صدام حسین کے پاس جو فوجی طاقت تھی، کاش اس نے اس طاقت کو اسرائیل کے خلاف استعمال کیا ہوتا تو آج وہ ساری مسلم دنیا کا ہیرو بن جاتاہے۔ مگر اس نے ایسا نہیں کیا۔ اس کے برعکس اس نے اپنی طاقت کو ایران اور کوویت کے خلاف استعمال کیا۔ میں کہوں گا کہ یہ حالت صرف صدام حسین کی نہیں ہے۔ بلکہ آج ہر مسلم رہنما کی حالت یہی ہے۔ ہر ایک اس کام میں لگا ہوا ہے جو اس کے کرنے کا نہ تھا، اور اس کام کو چھوڑے ہوئے ہے جو حقیقتاً اسے کرنا چاہئے تھا۔ ۲۸ مارچ ۱۹۹۱ ٹائمز آف انڈیا (۲۸ مارچ ۱۹۹۱) میں ترکی کے کسی ادیب کا قول نقل کیا گیا ہے۔ نام درج نہیں ہے۔ انگریزی میں اس کا ترجمہ یہ ہے : Peace is the work of strong men, war the courage of the cowardly. یعنی امن طاقت ور انسانوں کا عمل ہے، اور جنگ بز دل لوگوں کا عمل۔ یہ قول بہت با معنی ہے۔ مجھے اس سے صدفی صد اتفاق ہے۔ مولانا ابوالحسن علی ندوی نے اقبال پر عربی میں ایک کتاب لکھی ہے جو روائع اقبال “ کے نام سے شائع ہوئی۔ اس کا اردو ترجمہ مزید اضافہ اور نظرثانی کے بعد شائع ہوا ہے جس کا نام "نقوش اقبال" ہے۔ اردو ترجمہ کا چھٹا ایڈیشن ادارہ کی طرف سے مجھے بذریعہ ڈاک موصول ہوا ہے : مجھے "اقبالیات" سے کوئی دل چسپی نہیں۔ تاہم ڈاک سے یہ کتاب ملی تو میں نے الٹ پلٹ کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader