Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 51

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کو دیکھا۔ "دیباچہ طبع چہارم" کے عنوان سے مولانا ابو الحسن علی ندوی کا دیباچہ جو اس میں شامل کیا گیا ہے، اس کا پہلا پیرا گراف یہ ہے: "مصنف کو نقوش اقبال کی اس پذیرائی پر جو بر صغیر ہند و پاک میں اس کو حاصل ہوئی، مسرت بھی ہے اور ایک گونہ حیرت بھی۔ مسرت اس بات پر کہ مصنف کے نقوش قلم نے اقبال کے نقوش جاویداں کے ساتھ ہم آغوش ہو کر تابانی اور درخشانی پائی اور ان کا ستارہ اقبال بھی بلند ہوا"۔ ان الفاظ کو پڑھ کر مجھے سخت دھکا لگا۔ میں نے سوچا کہ وہ لوگ بھی کیسے عجیب ہوں گے جو مخلوق کے" نقوش جاویداں" کو جانیں مگر وہ خالق کے" نقوش جاویداں" کو نہ جان سکیں ۔ ایسے لوگوں کے بارے میں ، کم از کم میں یہی کہوں گا کہ انھوں نے خدا کی عظمت کو نہیں پایا اور نہ انھوں نے توحید کا ذائقہ چکھا۔ ورنہ ایک شاعر کے لئے ان کے قلم سے ایسے الفاظ نہ نکلتے۔ اپنے محبوب اکابر کے لئے ہر آدمی بڑے بڑے الفاظ لکھ رہا ہے۔ مگر خدا کے لئے بڑے بڑے الفاظ لکھنے والا کوئی نہیں ۔ ۳۰ مارچ ۱۹۹۱ء پاکستان میں ۱۹۶۵ء میں جو صدارتی الیکشن ہوا ، اس میں جنرل ایوب خاں کے مقابلہ میں اپوزیشن کی امیدوار مس فاطمہ جناح تھیں۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی کی قیادت میں جماعت اسلامی نے فاطمہ جناح کی مکمل حمایت کی ، اگر چہ فاطمہ جناح ہار گئیں۔ اس کے بعد ۱۹۸۸ء میں بے نظیر بھٹو الیکشن میں کھڑی ہوئیں تو اسی جماعت اسلامی نے فتویٰ دے دیا کہ اسلام میں عورت کی سربراہی جائز نہیں۔ اب نوائے وقت (۷، مارچ ۱۹۹۱ء) میں بتایا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے موجودہ الیکشن (۱۹۹۱ء) میں وہاں کی جماعت اسلامی نے دوبارہ عورت کی سربراہی کو جائزہ کر لیا اور بیگم خالدہ ضیاء کی مکمل حمایت کی ، جو الیکشن میں کامیاب ہو کر اس وقت بنگلہ دیش کی وزیر اعظم ہیں۔ جماعت اسلامی اسلام کو قائم کرنے کی علمبردار ہے۔ ایسے لوگ اسلام تو کیا قیام کریں گے، وہ الٹا کو بھی قائم نہیں کر سکتے۔ کوئی بھی نظام اصول پسند لوگ قائم کرتے ہیں نہ کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page