ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 52
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسے لوگ جن کا کوئی مستقل اصول ہی نہیں۔ صغیر اسلم صاحب (کیلی فورنیا) کے اصرار پر آجکل میں تذکیر القرآن کوریکارڈ کرارہا ہوں۔ کہیں کہیں برائے ضرورت کچھ اضافہ کرنا پڑتا ہے۔ آج سورہ المؤمن کی آخری تشریح کے خاتمہ پر حسب ذیل پیرا گراف کا اضافہ کیا: اللہ تعالیٰ نے انسان کو جس منصوبہ کے تحت زمین پر بسایا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان دیکھے بغیر حقیقت کا اعتراف کرے۔ وہ فطرت کے خاموش اشاروں کو پڑھے۔ وہ کائنات میں بکھری ہوئی نشانیوں سے سبق لے۔ وہ داعی کی زبان سے جاری ہونے والے کلام کا ادراک کرے۔ جو لوگ اس حقیقت کو مان لیں اور اس کے آگے اپنے آپ کو ڈال دیں، وہ جنت میں آبادکاری کے لئے چن لئے جاتے ہیں۔ اور جو لوگ اس طرح حقیقت کو ماننے پر راضی نہ ہوں ان کے سامنے آخر کار حقیقت کو برہنہ صورت میں کھول دیا جاتا ہے۔ مگر یہ کھولنا ان کو اعتراف کا موقع دینے کے لئے نہیں ہوتا بلکہ صرف ان کے مجرمانہ انکار کو ثابت کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اس کے بعد انجام کا مرحلہ شروع ہو جاتا ہے نہ کہ عمل اور اعتراف کا مرحلہ۔ یکم اپریل ۱۹۹۱ حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ليس الصيام من الطعام والشراب انما الصيام من اللغو والرفث (روزہ کھانا اور پانی چھوڑنے کا نام نہیں۔ روزہ تو لغو اور بیہودہ بات کو چھوڑنے کا نام ہے۔ بظاہر اس پر حصر کا انداز ہے۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ روزہ میں کھانا اور پانی نہ چھوڑے تو کوئی حرج نہیں۔ البتہ لغو اور رفث کو چھوڑ دینا چاہئے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ مذکورہ حدیث در اصل دعوتی اسلوب میں ہے۔ اس میں روزہ کی اصل اسپرٹ پر زور دیا گیا ہے، اس میں کھانا اور پانی چھوڑنے کا مسئلہ بیان نہیں کیا گیا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader