Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 53

By Maulana Wahiduddin Khan

تہران سے ایک عربی پرچہ (نصف شہیریہ) نکلتا ہے ۔ اس کا نام الشهيد الدولی ہے ۔ اس کی پیشانی پر "صوت الثورة الاسلامية" لکھا ہوا ہوتا ہے۔ اس کے شمارہ شعبان ۱۴۱۱ھ (فروری ۱۹۹۱) کے آخری صفحہ پر لعتبر جميعاً کے زیر عنوان ایک مضمون خلیج کی جنگ کے بارے میں شائع ہوا ہے جو عراق کی بدترین شکست پر ختم ہوئی۔ اس میں درج ہے کہ بغداد کی حکومت نے پہلے جو کچھ کہا وہ سب سے جھوٹا پر وپیگنڈہ تھا۔ ورنہ اس کا وہ کیمیائی ہتھیار کہاں گیا جس کی دھمکی وہ امریکہ اور اتحادی طاقتوں کو دے رہا تھا۔ اس کی وہ دھمکی کیا ہوئی جس میں اس کا کہنا تھا کہ اگر عراق کے خلاف جنگ چھیڑی گئی تو آدھے اسرائیل کو برباد کر دیا جائے گا۔ ان کا وہ دعویٰ کہاں ہے جس میں وہ ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کی بات کرتے تھے تاکہ کویت کو عراق کے صوبہ کی حیثیت سے باقی رکھ سکیں۔ وہ اتم المعارک کہاں ہے جو ام الھزائم بن گئی۔ (و این ام المعارك التى انقلبت الی ام الهزائم) یہ تبصرہ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی تمام تحریکوں پر صادق آتا ہے۔ حتیٰ کہ خود ایران کے نام نہاد اسلامی انقلاب پر بھی ۔ ہر ایک نے آغاز میں اپنے کام کو اتم المعارک " قرار دیا مگر ہر ایک آخر میں "ام الهزائم " ثابت ہوا۔ ۳ اپریل ۱۹۹۱ ریاض کے عربی مجلہ "الفیصل" کے شمارہ فروری ۱۹۹۱ میں ایک مضمون چھپا ہے ۔ اس میں خلیج کے مسئلہ پر حزن والم کا اظہار کرتے ہوئے یہ حکیمانہ مقولہ نقل کیا ہے : (اذا اردت ان تغلق سجناً ففتح مدرسة (اگر تم جیل خانہ کو بند کرنا چاہتے ہو تو تم تعلیم گاہ کھول دو ) یہ ایک حقیقت ہے کہ خلیج کے المیہ اور دوسرے تمام الم ناک واقعات کا اصل سبب مسلمانوں کی بے شعوری ہے۔ عراقی عوام کی بے شعوری نے صدام حسین جیسے ڈکٹیٹر کو پیدا کیا۔ پھر مسلمانوں کی بے شعوری نے صدام کو ساری مسلم دنیا کا ہیرو بنا دیا۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس قسم کے المناک واقعات سے امت کو بچائیں تو ہم کو سب سے پہلے مسلمانوں کو با شعور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page