Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 54

By Maulana Wahiduddin Khan

قوم بنانا ہوگا۔ مدینہ کی جامعہ اسلامیہ کے تعلیم یافتہ ایک صاحب ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے اخوانی لیڈر ڈاکٹر سعید رمضان کا ایک قصہ بتایا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے میگزین المسلمون کا کیا حال ہے۔ انھوں نے کہا کہ المسلمون کا وہی حال ہے جو مسلمانوں کا حال ہے۔ وہ چیونٹی کی چال چل رہا ہے جیسے کہ مسلمان چل رہے ہیں: قال الدكتور سعيد رمضان حين سأله سائل عن حال مجلته "المسلمون" فقال: إن حال المسلمون كحال المسلمين،تدب دبيب النمل كما يدب المسلمون ۱۵ اپریل ۱۹۹۱ ایک تجربہ گزرا۔ اس کے بعد زبان سے ایک آہ نکلی اور دل کا درد ناک احساس اس طرح لفظوں کی صورت میں ڈھل گیا: یہ دنیا سطحی لوگوں کی دنیا ہے۔ مگر میرا حال یہ ہے کہ سطحی بننے کی صلاحیت نہیں۔ اور سطحی نہ بننے کی صورت میں جو تعب اٹھانا پڑتا ہے اس کو برداشت کرنے کی صلاحیت نہیں۔ خدا اس بندے کی مدد فرمائے جو دو مصیبتوں کے درمیان ہے۔ اور دونوں میں سے کسی مصیبت کو وہ نہ حذف کر سکتا ہے اور نہ اس کا تحمل کر سکتا ہے۔ ۱۶ اپریل ۱۹۹۱ لارس جانسن (Lars Johnsson) سوئیڈن کے رہنے والے ہیں۔ وہ الکٹرانک انجینئر ہیں۔ ان کی عمر ۳۷ سال ہے۔ وہ ہندوستان میں بطور سیاح آئے ہیں۔ حمید اللہ کشمیری صاحب کو وہ دہلی کی جامع مسجد میں مل گئے۔ وہ ان کو میرے پاس لے آئے۔ ان کو میں نے کچھ انگریزی کتابیں دیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ اسلام کے بارہ میں کیا جانتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ میں اسلام کے بارہ میں بہت کم جانتا ہوں۔ میں نے ان سے مختصر گفتگو کی۔ انھوں نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ سوئیڈن میں اکثر لوگ اسلام کو اس نظر سے دیکھتے ہیں کہ وہ تشدد کا مذہب ہے :

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page