Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 55

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے کہا کہ یہ اسلام کا الٹا تعارف ہے جو نام نہاد مسلم لیڈروں نے کرایا ہے۔ حقیقی اسلام تو امن کا مذہب ہے۔ میں نے یہ آیت رو اللہ يدعوا الى دارالسلام) ان کو سنائی اور اس کی مختصر تشریح کی۔ ۷اپریل ۱۹۹۱ء ڈاکٹر ایم سی شرما کا تعلق آرایس ایس سے ہے۔ وہ ماہنامہ منتهن (هندی) کے ایڈیٹر ہیں۔ وہ ملاقات کے لئے آئے۔ کافی سلجھے ہوئے ہیں۔ ہندوؤں کی موجودہ سیاست سے انھیں اتفاق نہیں۔ انھوں نے کہا: لگتا ہے کنویں میں بھانگ پڑگئی ہے۔ کنویں میں بھانگ پڑ جائے تو سارے لوگ جو اس سے پانی پئیں گے وہ نشہ میں ہو جائیں گے۔ چنانچہ یہ مثل اس وقت بولی جاتی ہے جب کہ ایک طرف سے سب کی عقل بحره گئی۔ یہ بات انھوں نے ہندوؤں کی نسبت سے کہی۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات مسلمانوں کے بارہ میں اور بھی زیادہ صحیح ہے۔ موجودہ مسلمان بار بار جو نادانیاں کر رہے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا سب کی عقلیں چھین گئی ہوں ۔ ۱۸ اپریل ۱۹۹۱ء آل انڈیا ریڈیو پر اس سال سے سحر گاہی کا پروگرام شروع کیا گیا ہے۔ یہ فجر سے پہلے سحری کے وقت ہوتا ہے۔ اس میں تلاوت، حمد و نعت اور تقریر وغیرہ نشر کی جاتی ہے۔ آج روزہ کے تجربات پر پر وفیسر ظہیر احمد صدیقی کی تقریر آرہی تھی۔ انھوں نے بتایا کہ ایک بار روزہ میں ایک ہندو دوست کے یہاں جاتا ہوا ۔ وہ کھانے کے لئے سموسہ لے آیا۔ میں نے کہا کہ میرا روزہ ہے۔ پھر وہ پھل لایا۔ میں نے کہا کہ روزہ میں پھل کھانا بھی منع ہے۔ پھر وہ ٹھنڈا پانی لایا۔ میں نے کہا کہ ہم لوگ روزہ میں پانی بھی نہیں پیتے ۔ ہندو دوست نے کہا: ہم لوگوں کا فاسٹ ہوتا ہے اور آپ لوگوں کا سپر فاسٹ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page