ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 56
By Maulana Wahiduddin Khan
دو صاحبان ملاقات کے لئے آئے۔ انھوں نے کہا کہ الرسالہ کے ذریعہ سے آپ ایک مفید کام کر رہے ہیں۔ مگر آپ کی تنقید میں اس کی افادیت کو گھٹا رہی ہے۔ آپ اپنے مضامین میں اکابر ملت پر تنقیدیں کرتے ہیں۔ اس سے لوگ بھڑک اٹھتے ہیں۔ اور الرسالہ سے متوحش ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ اکابر پر تنقید کرنا چھوڑ دیں تو الرسالہ کا حلقہ مطالعہ بہت بڑھ جائے گا۔ میں نے کہا کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ انھیں شخصیتوں کے واسطہ سے دین سے جڑے ہوئے ہیں۔ مگر یہ وہی چیز ہے جس کو اکابر پرستی کہا جاتا ہے۔ صحیح یہ ہے کہ آدمی خدا کے واسطہ سے دین سے وابستہ ہو۔ چنانچہ لوگ دیندار ہو کر بھی اعلیٰ رہانی کیفیات سے محروم رہتے ہیں۔ اعلیٰ رہانی کیفیات خدا پرستی والے دین سے ملتی ہیں نہ کہ اکابر پرستی والے دین سے۔ ۱۰ اپریل ۱۹۹۱ ایک صاحب سے میں نے کہا کہ الرسالہ میں لوگوں کے ” اکابر“ پر کبھی کبھی جو تنقید آتی ہیں، اس سے لوگ برہم ہیں۔ مگر الرسالہ کی ان تنقیدوں سے کر دوروں گنا زیادہ بڑی تنقید وہ ہے جو موجودہ زمانہ میں خدا کے اوپر کی گئی ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو علوم مدون کئے گئے ہیں وہ سراسر خدا کے اوپر تنقید ہیں۔ ان علوم میں سرے سے خدا کے وجود کو حذف کر دیا گیا ہے۔ ان علوم کے مطابق کسی بھی اعتبار سے خدا کی کوئی حیثیت نہیں۔ تعلیم گاہ، لائبریری اور دوسری تمام انسانی سرگرمیوں کی بنیاد انھیں مخالفانہ علوم پر ہیں۔ خدا کے خلاف دوسو سال سے اتنی بڑی تنقید ہو رہی ہے، مگر سارے عالم اسلام میں کوئی بھی نہیں جو اس کے لئے واقعی معنوں میں تڑپ اٹھا ہو۔ لوگ اکابر کے خلاف تنقید پر پھر رہے ہیں، مگر خدا کے خلاف تنقید پر کوئی پھیرنے والا نہیں۔ اگر کوئی شخص اس پر پھر تا تو وہ جدید علوم کا گہرا مطالعہ کر کے ان کے رد میں طاقت ور لٹریچر تیار کرتا۔ مگر سارے عالم اسلام میں اس موضوع پر کوئی ایک بھی طاقت ور کتاب لکھی نہ جاسکی۔ قرآن میں حضرت زکریا کے تذکرہ کے تحت بتایا گیا ہے کہ انھوں نے اپنے رب کو چھپی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader