Urdu book · ڈائری 1991-1992

ڈائری 1991-1992

Urdu book, p. 57

By Maulana Wahiduddin Khan

گزر رہا ہے۔ بے شمار لوگوں کا یہ ذاتی تجربہ ہے کہ وہ آہستہ آہستہ ایک برتر ہستی کو پکارتے ہیں اور ان کی پوری روح کو تسکین مل رہی ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کو پکار رہے ہیں وہ ایسی مانوق ذات کو پکار رہے ہیں جو آہستہ آواز کو بھی سنتا ہے اور آدمی کی مدد کرتا ہے۔ بے شمار انسانوں کے ساتھ گزرنے والا یہ واقعہ گویا ایک تجرباتی ثبوت ہے۔ اس سے نفسیاتی سطح پر یہ ثابت ہو رہا ہے کہ انسان کے اوپر ایک برتر خدا موجود ہے۔ اور انسان اور اس خدا کے درمیان بندہ اور رب کا تعلق پایا جاتا ہے۔ ۱۲ اپریل ۱۹۹۱ صحیح البخاری (کتاب التفسیر) میں سورۃ القصص کے تحت یہ روایت نقل کی گئی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت زیادہ کوشش کی کہ آپ کے چچا ابو طالب ایمان قبول کر لیں۔ مگر آخر وقت تک انھوں نے ایمان قبول نہیں کیا (بیا ان يقول لا الہ الا اللہ) اس پر یہ آیت اتری کہ (انک لا تـهـدى من احببت ولكن الله يهدی من يشاء (القصص ۵۶) بخاری کی اس روایت کی بنا پر تمام مفسرین نے اجماع کر لیا ہے کہ اس آیت کا تعلق ابو طالب سے ہے۔ مگر بخاری کی روایت کا یہ مطلب لینا صحیح نہیں۔ اس آیت میں در اصل ایک اصول کو بیان کیا گیا ہے۔ ابو طالب کا واقعہ اس اصول کے تحت آتا ہے نہ کہ وہی اصل مراد ہے۔ اصل یہ ہے کہ دعوت کو خواہ کتنے ہی زیادہ دلائل کے ساتھ بیان کر دیا جائے، ایک شبہ کا پہلو پھر بھی موجود رہتا ہے۔ شبہ کے اس پردہ کو پھاڑنا دعو کا کام ہے۔ وہ داعی کا کام نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حد تک سارے دلائل دے دئے تھے۔ مگر پھر بھی شبہ کا ایک پہلو باقی تھا۔ اور اس کو ابو طالب کو پھاڑنا تھا۔ وہ اس شبہ کو ختم کرنے میں ناکام رہے۔ اس لئے وہ ایمان بھی نہ لا سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page