ڈائری 1991-1992
Urdu book, p. 58
By Maulana Wahiduddin Khan
ہونے والے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے کہا: ان شاء اللہ ہم یہاں دوبارہ سر بلند ہوں گے۔ ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت قائم ہوگی اور یہ بہت جلد ہوگا۔ نمازیوں نے کہا: ان شاء اللہ۔ موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کا یہی عام مزاج ہے۔ وہ فخر و ناز کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ اس لئے "حکومت" سے کم کوئی چیز انہیں اپنے مقام سے فروتر دکھائی دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے درمیان صرف بڑے بڑے نعرے مقبول ہوتے ہیں خواہ وہ کتنے ہی زیادہ بے معنی کیوں نہ ہوں۔ اور چھوٹی بات ان کے یہاں غیر مقبول ہو جاتی ہے خواہ وہ کتنی ہی زیادہ اہم کیوں نہ ہو۔ ۱۱ اپریل ۱۹۹۱ء "خلیج ڈائری" کتاب کی صورت میں چھپنے والی ہے۔ اس کے ٹائٹل کی پشت پر چھاپنے کے لئے حسب ذیل مضمون لکھ کر دیا: پچھلے ساڑھے پانچ ہزار سال کی انسانی تاریخ میں ۱۴ ہزار سے زیادہ جنگیں لڑی جاچکی ہیں۔ خلیج کی حالیہ جنگ بھی انھی میں سے ایک تھی جو ڈیڑھ مہینہ تک پوری ہولناکی کے ساتھ جاری رہی۔ واقعاتی اعتبار سے یہ جنگ اب ماضی کی ایک داستان ہے۔ مگر عبرت اور نصیحت کے اعتبار سے وہ ایک تاریخی ہدایت نامہ ہے، حال کے لئے بھی اور آنے والے مستقبل کے لئے بھی۔ ۱۵ اپریل ۱۹۹۱ء کسی کا قول ہے کہ ہر چیز کے آغاز میں ایک عورت موجود ہوتی ہے: There is a woman at the beginning of all great things. دوسرے اقوال میں کہ کامیاب عورت کو جب عورت ہو تاہے کہ اس کے آگے ایک مرد موجود ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader